Al-Risala · December 1991 · page 17

نصیحت لقمان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۷

تھے اور مومن و صادق تھے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ربانی حکمت بھی عطا فرمائی تھی۔ حکم یا حکمت سے مراد فہم اور بصیرت ہے۔ ایک ہے دین کی معلومات ہونا، دوسری چیز ہے دین کی معرفت ہونا۔ معلوماتی واقفیت کا تعلق ظاہری الفاظ سے ہوتا ہے۔ اور عارفانہ بصیرت کا تعلق گہری یافت سے۔ قرآن کے مطابق، حضرت لقمان نہ صرف دین کے مسائل اور احکام سے واقف تھے بلکہ وہ دین میں گہری بصیرت رکھتے تھے۔ وہ معرفت کے درجہ میں خدا کے دین کو پائے ہوئے تھے۔ وہ دین خدا وندی کو اس کی گہرائیوں کے اعتبار سے جانتے تھے۔

حضرت لقمان کو جو حکمت عطا ہوئی تھی، اس سے انھوں نے جو سب سے پہلا سبق پایا وہ شکر خداوندی تھا۔ چنانچہ فرمایا کہ لقمان کو ہم نے یہ حکمت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرو۔ غیر حکیم آدمی چیزوں کو جیسا دیکھتا ہے ویسا ہی وہ ان کو مان لیتا ہے۔ اس لئے غیر حکیم آدمی کی نظر ہمیشہ چیزوں کے ظاہر پر اور ان کے سطحی پہلوؤں تک محدود رہتی ہے۔ اس کے برعکس حکیم آدمی چیزوں پر غور کرتا ہے۔ اس طرح وہ چیزوں کی گہرائی تک پہنچتا ہے۔ وہ چیزوں کو ان کے اندر کی حقیقت کے اعتبار سے جان لیتا ہے۔

مثلاً اپنی ذات کے اعتبار سے دیکھئے۔ آدمی ایک زندہ وجود کی حیثیت سے زمین پر چلتا پھرتا ہے۔ وہ طرح طرح کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ غیر حکیم آدمی اپنے اس وجود کو دیکھے گا تو اس کے اندر فخر اور ناز کی کیفیت پیدا ہوگی۔ حتیٰ کہ وہ اپنی صلاحیتوں کی بنا پر گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے گا۔ مگر حکیم کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔

حکیم آدمی اپنے وجود کو دیکھ کر یہ سوچے گا کہ میرا یہ وجود کہاں سے آگیا۔ میں خود تو اپنے آپ کو پیدا نہیں کر سکتا۔ پھر میں کیسے ایک مکمل انسان کی صورت میں دنیا میں موجود ہو گیا۔ یہ سوچ اس کو اس حقیقت تک پہنچائے گی کہ اس کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ یہ دریافت اس کو خدا کے آگے جھکا دے گی۔ وہ کہہ اٹھے گا کہ خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے انسان بنا کر پیدا کیا۔ حالاں کہ میں خود اپنے آپ کو پیدا نہیں کر سکتا تھا۔

اسی طرح آدمی اپنے آپ کو ایک زمین پر پاتا ہے۔ یہ زمین ایک اتھاہ کائنات کے اندر ایک حیرت انگیزہ انتشار ہے۔ دسیئہ کائنات میں یہ واحد معلوم سیارہ ہے جہاں انسان زندہ رہے اور اپنے لئے تمدن

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page