تنقید و اختلاف
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۵
تنقید و اختلاف
ابن قیم الجوزیة ۶۹۱ ھ میں دمشق میں پیدا ہوئے ۔ ۵۱ ۷ ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کی ایک مشہور کتاب اعلام الموقعین ہے۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے درمیان مسائل میں باہم اختلاف تھا۔ اسی طرح انھوں نے دوسرے صحابہ کے درمیان رایوں کے اختلاف کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں :
ولم يستنكر احد هذ الخلاف انما اور کسی نے بھی اس اختلاف کو برا نہیں مانا۔ تمام لوگوں اعتبرہ الجميع امر طبيعيا لا يقطع وداً نے اس کو ایک فطری معاملہ سمجھا۔ جس سے نہ باہمی محبت ولا يفرق صفاً۔ ختم ہوتی اور نہ مسلمانوں کی جماعت میں کوئی انتشار پیدا ہوتا۔ یہ اسلام کی وہ صورت حال ہے جو اصحابِ رسول کے زمانہ میں تھی۔ یعنی وہ زمانہ جس کو اسلام کی تاریخ میں معیاری دور کہا جاتا ہے۔ اس زمانہ میں ہر مسلمان آزادانہ طور پر اختلاف رائے کرتا تھا۔ یہ اختلاف رائے اکثر نہایت شدید الفاظ میں ہوتا تھا۔ اس کے باوجود کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اختلاف اور تنقید کرنے والے کوروکا جائے یا اس کو کوئی نا پسندیدہ کام سمجھا جائے۔
اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھئے تو صورت حال بالکل مختلف نظر آئے گی۔ آج اگر کسی مسلم شخصیت پر تنقید کر دی جائے تو مسلمان فوراً مشتعل ہو جاتے ہیں۔ وہ ناقد کو برداشت کرنے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ دور صحابہ اور موجودہ زمانہ میں اس فرق کا سبب کیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ صرف ایک اللہ کو بڑا بنائے ہوئے تھے ۔ اللہ کے بعد تمام انسان ان کی نظر میں برابر تھے۔ اس لیے انسانوں پر تنقید سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمان اللہ کے ساتھ دوسرے انسانوں کو بھی بڑا بنائے ہوئے ہیں۔ ان انسانی بڑوں کے لیے انھوں نے مبتدعانہ طور پر " اکابر " کا لفظ وضع کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی محبوب شخصیتوں پر تنقید سے بھڑک اٹھتے ہیں ۔
دین میں معیار بہر حال اصحابِ رسول ہیں۔ مسلمان اگر اس کے سوا کوئی اور معیار بنائیں تو وہ بلاشبہ بدعت ہے ، اور بدعت اسلام میں مقبول نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues