رہنما ئے حیات
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۷
کہ جلوس کی روٹ بدلی جائے۔ شیعہ لوگ روٹ بدلنے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس پر دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی جس میں پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ مقابل کی تصویر (ٹائمز آف انڈیا ۱۶ جولائی ۱۹۹۱) میں پولیس سنی فرقہ کے لوگوں پر لاٹھی چارج کر رہی ہے جو شیعہ جلوس کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پاکستان اس لئے بنوایا گیا تھا کہ غیر منقسم ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑے ہوتے تھے۔ اس لئے مسلمانوں کے لیڈروں نے کہا کہ ہمیں ایک خطہ چاہئے جہاں سب مسلمان ہوں۔ تاکہ وہاں جھگڑے نہ ہوں اور ہم امن و سکون کے ساتھ رہ سکیں۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو معلوم ہوا کہ مسلم لینڈ میں بھی وہی تمام جھگڑے جاری ہیں۔ جو صرف ہند و لینڈ کی خصوصیت سمجھے جاتے تھے۔
اصل یہ ہے کہ جھگڑے کا تعلق ہند و لینڈ اور مسلم لینڈ سے نہیں۔ جھگڑے کا تعلق جھگڑا کرنے والوں کے مزاج سے ہے۔ اگر لوگوں کے اندر تحمل کا مزاج ہو تو کہیں جھگڑا نہیں ہوگا۔ اور اگر تحمل کا مزاج نہ ہو تو ہر جگہ جھگڑا ہوگا، خواہ وہ کوئی بھی جگہ کیوں نہ ہو۔
زندگی خلاف مزاج باتوں کو بر داشت کرنے کا نام ہے۔ اس برداشت کے بغیر کہیں بھی امن و سکون کا ماحول نہیں بن سکتا۔ خاندان کے اندر بھی اس کی ضرورت ہے۔ بستی کے اندر بھی اور پورے ملک کے اندر بھی۔ ایک فرقہ کے سماج میں بھی اسی سے امن قائم ہو سکتا ہے اور کئی فرقہ کے سماج میں بھی۔
جہاں بھی کچھ انسان مل کر رہیں، خواہ وہ ایک مذہب اور کلچر کے ہوں یا کئی مذہب اور کلچر کے۔ وہاں لازماً ایک دوسرے کے درمیان ٹکراؤ کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان مواقع کی پیدائش کو بند نہیں کیا جاسکتا، البتہ ان کو نقصان کی حد تک جانے سے روکا جا سکتا ہے۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ جب ٹکراؤ کی نوبت آئے تو اس کو حسن تدبیر سے دفع کرنے کی کوشش کی جائے۔ اعراض اور صبر کے ذریعہ اس کو اس کے ابتدائی مرحلہ میں ختم کر دیا جائے۔ اس کے سوا جو بھی صورتیں ہیں وہ سب مسئلہ کو بڑھانے کی صورتیں ہیں نہ کہ مسئلہ کو گھٹانے کی صورتیں۔ جو چیز غیر فطری ہو اس کو آپ کوشش کرکے ختم کر سکتے ہیں۔ مگر ایک فطری چیز کو ختم کرنا دسمبر 1991 البلاغ 27
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues