الفاظ ختم نہیں ہوتے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۹
الفاظ ختم نہیں ہوتے
غالباً 1965 کا واقعہ ہے۔ میں لکھنؤ میں حضرت گنج کے پاس سڑک پر جارہا تھا۔ میں فٹ پاتھ پر تھا۔ قریب ہی ایک آدمی سڑک کے کنارے بائیں طرف چل رہا تھا۔ اتنے میں ایک موڑ آیا۔ آدمی موڑ پر تھا کہ عین اسی وقت پیچھے سے ایک سائیکل آگئی۔ ایک نوجوان تیزی سے سائیکل دوڑاتا ہوا موڑ پر پہنچا۔ سائیکل قابو میں نہ آسکی اور راہ گیر سے ٹکرا گئی۔ راہ گیر سڑک پر گرگیا۔ سائیکل بھی رک گئی۔ راہ گیر اٹھا۔ وہ ایک بوڑھا آدمی تھا۔ اس نے نوجوان کو غور سے دیکھا۔ اس کے بعد راہ گیر اور نوجوان کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ یہ تھی :
گھنٹی کیوں نہیں بجائی ــــــــ راہ گیر نے کہا۔
گھنٹی نہ ہو تو ــــــــ نوجوان نے جواب دیا۔
بریک کیوں نہیں لگایا۔
بریک نہ ہو تو۔
جب تمہارے پاس گھنٹی نہیں، بریک نہیں، تو تم سائیکل تیز کیوں دوڑاتے ہو کیا تم سے پوچھ کر دوڑاؤں۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی اگر چپ ہو نا نہ چاہے تو کسی بھی دلیل سے اس کو چپ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ہر دلیل کے جواب میں الفاظ کا ایک مجموعہ بولتا رہے گا۔ یہاں تک کہ آپ خود ہی چپ ہو جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دلیل کو ماننے کے لئے سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ غیر سنجیدہ آدمی کو کسی بھی دلیل سے قائل کرنا ممکن نہیں۔
موجودہ دنیا فتنه کی دنیا ہے۔ اور دنیا کا سب سے بڑا فتنہ الفاظ ہیں۔ اس دنیا میں آدمی ہر بات کے جواب میں الفاظ پالیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو مطمئن کر لیتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جب تک سنجیدہ نہ ہو اس کو سمجھایا نہیں جا سکتا۔
مثلاً آپ ایک آدمی سے کہیں کہ ٹیپو سلطان کی فوج نے آخر وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ صرف تھوڑے سے آدمی ٹیپو کے ساتھ رہ گئے تھے ۔ دوسری طرف انگریز جنرل کے پاس بہت بڑی فوج
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues