توازن، تدرّج
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۳
توازن، تدرّج
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ "توازن " قومی ترقی کے لئے شاہ کلید ہے۔ یعنی متوازن عمل کے ذریعہ ہی ہم قومی ترقی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ قومی ترقی کے عمل کے لئے کلیدی لفظ تدرّج ہے۔ نہ کہ توازن۔
توازن بھی ایک اصول ہے اور تدرّج بھی ایک اصول۔ مگر ہر ایک کا مقام استعمال الگ ہے۔ شاعر کی زبان میں ہر بات کا ایک محل ہوتا ہے اور ہر نکتہ کا ایک مقام :
ہر سخن موقع و ہر نکتہ مکانے دارد
جو لوگ قومی ترقی کے عمل میں توازن کو شاہ کلید بتاتے ہیں وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں اصرار کر رہے ہیں کہ ہم کو ہر محاذ پر بیک وقت ہمہ جہتی عمل کرنا ہو گا ۔ ذہنی بیداری اور تعلیم جیسے کاموں کے ساتھ عین اسی وقت سیاسی عمل اور حقوق طلبی کی مہم بھی پوری طاقت کے ساتھ جاری کرنا ہوگا۔ ورنہ ہم زندگی کی دوڑ میں ناقابلِ عبور حد تک پیچھے ہو جائیں گے۔
حتیٰ کہ ان حضرات کا کہنا ہے کہ اگر کوئی قوم صرف تعلیم یا اقتصادیات کے محاذ کولے کربیٹھ جائے اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے اور سیاست میں دوسروں کے شانہ بشانہ چلنے کی کوشش نہ کرے تو وہ حقوق سے تو محروم ہی رہے گی، خود تعلیم اور اقتصادیات کو حاصل کرنے کے مواقع بھی اس کو نہیں مل سکتے:
اس قسم کے مضامین یہ مان کر لکھے جاتے ہیں کہ ابھی تک ہم کو قومی اور سیاسی حقوق حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ ان کو حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ قسم کے قائدین اور دانشوروں کی اپنی اولاد تعلیمی اور اقتصادی میدان میں اعلیٰ ترقیات حاصل کر رہی ہیں۔ اور وہ فخر کے ساتھ اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ملت کی تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے لئے تو ضروری ہے کہ پہلے سیاسی حقوق کی منزل طے کی جائے مگر خود ان حضرات کی اپنی اولادیں اس منزل کے طے ہونے سے پہلے ہی تمام ترقیاں حاصل کر رہی ہیں۔
اس قسم کی باتیں کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے بیٹوں کو سمندر پار کے دسمبر ۱۹۹۱ الرسائل 33
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues