Al-Risala · February 1991 · page 7

ایک تاریخ

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۷

ایک حدیث

حدیث کی کتابوں میں دور آخر کے بارہ میں بہت سی پیشین گوئیاں ہیں ۔ انھیں میں سے ایک پیشین گوئی وہ ہے جس کو امام احمد اور دوسرے محدثین نے نقل کیا ہے :

عن المقداد انه سمع رسول الله صلى الله الله حضرت مقداد کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ عليه وسلم يقول : لا يبقى على ظهر الارض صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ زمین کی سطح بيت مدر ولا وبر الا ادخله الله پر کوئی خیمہ یا گھر باقی نہ رہے گا مگر یہ کہ اللہ اس كلمة الاسلام بعز عزيز و ذل ذلیل میں اسلام کے کلمہ کو داخل کر دے گا ، خواہ اما يعزهم فيجعلهم من عزیزی کی عزت کے ساتھ یا ذلیل کی ذلت کے ساتھ ۔

اهلها او يذلهم فيدينون لها الثریا تو انھیں عزت دے گا اور ان کو اہل اسلام (مشكاة المصابيح، الكجز من الاول ، صفحه ۲۰) میں سے بنا دے گا یا انھیں ذلیل کرے گا تو وہ اس کے دین کو اختیار کر لیں گے ۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ آخری زمانہ میں اسلام ہر گھر میں داخل ہو جائے گا ۔ مگر حدیث کے الفاظ کے مطابق ، جو چیز گھروں کے اندر داخل ہوگی وہ اسلام کا کلمہ ہوگا نہ کہ اسلام کا سیاسی اور حکومتی اقتدار ۔ کچھ لوگوں نے اس پیشین گوئی کو سیاسی داخلہ کے معنی میں لے لیا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوگ ساری دنیا میں اسلام کا سیاسی جھنڈا لہرانے کے نام پر مدعو اقوام سے سیاسی لڑائی چھیڑے ہوتے ہیں ۔ اس بے معنی لڑائی کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ اسلام سے بیزار ہو کر اس سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔

اس پیشین گوئی کو واقعہ بنانے کے لیے مسلمانوں کو جو کام کرنا ہے وہ دعوت الی اللہ ہے ۔ انھیں چاہیے کہ وہ توحید اور آخرت کے ربانی پیغام سے تمام قوموں کو باخبر کرنے میں ہمہ تن مصروف ہو جائیں ، وہ اسلام کو فکری حیثیت سے ایک معلوم اور مسلم چیز بنادیں ، تاکہ جس کو ماننا ہے وہ مانے ، اور جس کو نہیں ماننا ہے اس پر حجت قائم ہو جائے ۔

عمل تبلیغ کی انتہا اتمام حجت ہے نہ کہ قیام حکومت ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page