پیغمبر کی پیشین گوئی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۸
پیغمبر کی پیشین گوئی
عن مرداس الاسلمی قال قال رسول اللہ صلی اللہ مرداس اسلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يذهب الصالحون الاول فالاول علیہ وسلم نے فرمایا کہ صالح لوگ چلے جائیں گے، ایک وتبقي حثالة كحثالة الشعير او التمر لا يبإليهم کے بعد ایک ۔ اور پھر بھس رہ جائے گا، جیسے جَو اللہ بالة (رواه البخاری) یا کھجور کا بھس ہوتا ہے۔ اللہ کو ان کی کچھ پروا نہ ہوگی۔ اس حدیث میں ذھاب کا مطلب موت نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت کے صالح افراد مر جائیں گے اور غیر صالح افراد زندہ رکھے جائیں گے۔ کیوں کہ موت تو سب کے اوپر یکساں طور پر آتی ہے۔ وہ صالح اور غیر صالح کے درمیان فرق نہیں کرتی۔
اس حدیث میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانہ میں اسلامی اداروں اور اسلامی حلقوں کا یہ حال ہو جائے گا کہ یہاں عمومی طور پر وہ لوگ جمع ہوں گے جو پست ذوق اور معمولی صلاحیت والے ہیں۔ بلند صلاحیت والے اور اعلیٰ ذوق کے لوگ دینی شعبوں میں آنا کم ہو جائیں گے۔
خدا کا دین ایک ہی دین ہے۔ مگر نمائندگی کے اعتبار سے اس میں فرق ہو جاتا ہے۔ دین کی نمائندگی جب اعلیٰ سطح پر ہو تو اعلیٰ درجہ کے افراد اس کی طرف کھنچتے ہیں۔ اور جب دین کی نمائندگی پست سطح پر ہونے لگے تو پست درجہ کے لوگ ہی اس کی طرف آتے ہیں۔
اداروں اور تحریروں میں اگر اعلیٰ معیار کی تقریر اور تحریر کے ذریعہ دین کو پیش کیا جا رہا ہو تو اعلیٰ سطح کے افراد اس کی طرف کھینچیں گے۔ ان سے جس کردار کا مظاہرہ ہوگا وہ بھی اعلیٰ اور ارفع کردار ہوگا۔ اور جب دین پیش کرنے والوں کے یہاں تقریر و تحریر اور اخلاق و کردار کا معیار پست ہو جائے تو اسی درجہ کے لوگ دینی حلقوں میں جمع ہوں گے جو دین کی نمائندگی کرنے والوں کا درجہ ہے۔ اللہ کو ان کی پروا نہ ہوگی“ کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ذریعہ دین کا کوئی بڑا کام نہیں انجام پاسکتا۔ بڑا کام کرنے کے لیے بڑا دل اور اعلیٰ صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اور یہ چیزیں ان کے یہاں موجود نہ ہوں گی۔ ایسی حالت میں اس قسم کے لوگ کوئی بڑا دین کام کس طرح انجام دے سکتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues