Al-Risala · December 1991 · page 49

خبر نامه اسلامی مرکز ۷۷

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۹

کراک کے دیا ر آمنہ منظر، کشن گنج )

میڈیکل کے ایک طالب علم لکھتے ہیں : میں ۱۹۸۷ء سے الرسالہ کا قاری ہوں۔ میں نے پایا کہ الرسالہ نے کئی نوجوانوں کے ذہن کو تعمیری سوچ کی روشنی سے منور کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے مشن کو کامیاب کرے جو مسلمانوں کو ایک بکھری ہوئی زندگی اور ناکامی سے بچانے کے لئے جاری ہے۔ ہمارے کالج میں تقریباً ۴۰ مسلم طلبہ ہیں۔ ہم یہاں کئی مشکلوں سے آسانی سے نکل آئے۔ اور اب یہاں ہماری پوزیشن بہت اچھی ہے۔ کیوں کہ ہم نے آپ کے بتانے کے مطابق "حدیبیہ پرنسپل" کو استعمال کیا ( محمد انور فہمی، اورنگ آباد)

۱۲ | قاری سید مبین صاحب نانڈیر میں مستان پورہ کی مسجد میں امام ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہر روز نماز فجر کے بعد وہ مسجد میں تذکیر القرآن پڑھ کر سناتے ہیں۔ بیشتر نمازی درس سننے کے لئے ٹھہر جاتے ہیں۔ تقریباً پندرہ منٹ کا وقت لگتا ہے۔ لوگ بہت شوق سے سنتے ہیں۔ اسی طرح بہت سی مساجد میں تذکیر القرآن کے ذریعہ درسِ قرآن کا سلسلہ قائم ہے۔ ۱۳ | ایک صاحب لکھتے ہیں: الرسالہ نظروں سے گزرا۔ شکر خداوندی ہے کہ اس نے آپ جیسے دینی قناعت پسند شخصیت کے ہاتھوں سے اتنا مدبر رسالہ جاری کروایا ہے۔ واقعی یہ رسالہ صرف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ عام و خاص انسانوں کے لئے ایک بہترین عطیہ ہے۔ ایک مشعل راہ ہے (حسین خاں، بنگلور )

۱۴ | ۱۵ اگست 1991ء کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ اس کا موضوع تھا : سماجی اصلاح کا مسئلہ۔

۱۵ | عبد الرحمن صاحب (پونہ) الرسالہ کے قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں الرسالہ پڑھنے کے بعد یہ کرتا ہوں کہ اس کے منتخب مضامین کو ہندو لوگوں کو سناتا ہوں ۔ وہ لوگ اس کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ خود پڑھنے کے بعد دوسروں کو پڑھ کر سناتے ہیں۔

۱۶ | ایک نئی کتاب تیار ہوئی ہے۔ اس کا نام کاروانِ ملت ہے۔ اس کا موضوع ملت کا احیاءِ نو ہے اور وہ ۲۲۴ صفحہ پر مشتمل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page