Al-Risala · December 1991 · page 48

خبر نامه اسلامی مرکز ۷۷

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۸

ہے اور اب وہ رسالہ اردو کو روانی کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔ اس طرح کے اور بھی کئی لوگ ہیں جنھوں نے الرساله کو پڑھنے کے لئے اردو سیکھی ہے۔

محمد ہارون صاحب (برہم پور، مرشد آباد) الرساله کے مستقل قاری ہیں۔ وہ الرسالہ کے مضامین کا بنگالی زبان میں ترجمہ کر کے ان کو بنگالی اخبارات و رسائل میں چھپواتے رہتے ہیں۔ حیدر آباد (پاکستان) کے پندرہ روزہ اخبار "حرہر و تصویر" نے اپنے شمارہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۱ء میں الرسالہ کے بارہ میں ایک مفصل تائیدی مضمون شائع کیا ہے۔ اس کا عنوان ان لفظوں میں قائم کیا گیا ہے: ممتاز عالم دین اور مفسر قرآن مولا نا وحید الدین خاں کا کلمہ حق۔ ہند اور بیرون ہند کے مختلف اخبارات و رسائل میں اس طرح کے مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ اس سے پہلے مسلم مسائل میں صرف احتجاج اور شکایت اور مظلومیت کی زبان بولی جاتی تھی ۔ الرساله کی پندرہ سالہ متواتر کوشش کا یہ نتیجہ ہے کہ اب تمام لوگوں کی زبانیں بدل رہی ہیں۔ ہر ایک کسی نہ کسی طور پر الرسالہ کا پیٹرن اختیار کر رہا ہے۔ اس کی ایک مثال لکھنؤ کے پندرہ روزه تعمیر حیات کی ہے۔ اس کے شمارہ ۱۰ اگست ۱۹۹۱ء کے اداریہ کا عنوان "روشن مستقبل" ہے اور وہ پورا کا پورا الرسالہ کے نقطہ نظر کی نقل ہے۔

ایک صاحب لکھتے ہیں : میں الرسالہ کا برابر ۱۹۸۵ء سے قاری ہوں۔ اور بہت ہی دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ الرسالہ کا ہر لفظ موتی اور ہیرے کے برابر ہوتا ہے۔ اگر ہماری قوم اس پر عمل کرے تو یقیناً ہم کو جینے کا طریقہ حاصل ہو جائے ۔ خاص کر اعراض کا جو سبق آپ دے رہے ہیں وہ بہت ہی قیمتی سبق ہے۔ مگر نادان لوگ اس کو بزدلی بتاتے ہیں اور برابر خود ہی نقصان بھی اٹھارہے ہیں۔ یہاں کی مسجد میں تذکیر القرآن بھی موجود ہے۔ وہ واقعی اپنی نوعیت کی پہلی تفسیر ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کہ لوگ تبدیل ہوں گے اور الرسالہ کی نصیحت پر عمل کرینگے۔ (مبارک حسین، اعظم گڑھ)

ایک خاتون لکھتی ہیں : میں مقامی ایجنسی سے ہر مہینے الرسالہ حاصل کرلیتی ہوں ۔ اس کے مضامین بہت جاندار ہوتے ہیں۔ بہت سی نئی نئی باتیں سیکھتی ہوں۔ ملنے جلنے والوں کو الرسالہ پڑھنے کی ترغیب دیتی رہتی ہوں ۔ کچھ ہندو صاحبان کو الرسالہ کے نسخے تقسیم کئے۔ کچھ لوگوں کو فوٹو کاپی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page