Al-Risala · February 1991 · page 17

مسائل ملت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۱۷

مسائل ملت

مسلمانوں کے موجودہ مسائل کا قرآنی حل ـــــ یہ وہ موضوع ہے جس پر مجھے اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ سوال بظاہر ایک سادہ سا سوال معلوم ہوتا ہے۔ مگر نظری اعتبار سے سادہ ہونے کے باوجود ، عملی اعتبار سے وہ سادہ سوال نہیں۔ قرآن میں اگر چہ اس کا واضح جواب موجود ہے، مگر اس جواب کو پانا اور اس کو اختیار کرنا بلا شبہ ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ ہے۔ " آج کون سی تاریخ ہے " اس سوال کا جواب معلوم کرنا ہو تو ہر شخص اس کو نہایت آسانی کے ساتھ جان لے گا۔ اگر آپ کو معلوم ہو کہ آج سنچر کا دن ہے اور فروری کا مہینہ ، تو آپ اپنی دیوار کا کلنڈر دیکھ کر آپ نہایت آسانی کے ساتھ جان لیں گے کہ آج کیا تاریخ ہے۔ آپ کلنڈر میں فروری کا صفحہ کھولیں گے اور پھر سنچر کے خانہ میں دیکھیں گے تو آپ کو فورا معلوم ہو جائے گا کہ آج فروری ۱۹۹۰ کی دس تاریخ ہے۔

مگر قرآن سے اس طرح ٹیکنیکل انداز میں مذکورہ سوال کا جواب معلوم کرنا ممکن نہیں۔ آپ کے پاس پورا قرآن موجود ہو۔ آپ عربی زبان جانتے ہوں ، حتیٰ کہ آپ کسی مدرسہ میں شیخ التفسیر کے عہدے پر فائز ہوں تب بھی یہ پیچیدگی بدستور باقی رہے گی ۔

اس کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلنڈر سے تاریخ نکالنے کا معاملہ صرف ایک فنی معاملہ ہے۔ مگر مسلمانوں کے مسائل کا قرآنی حل جاننے کا معاملہ ، اُسی کے ساتھ امتحان کا معاملہ بھی ہے۔ اس کا امتحان کا معاملہ ہونا اس کو انتہائی آسان ہونے کے باوجود ، انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ سنت امتحان قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے موجودہ دنیا میں اس لئے رکھا ہے کہ اس کا امتحان لے ( الملک ۲ ) موجودہ دنیا کی تمام چیزیں اسی مقصد حیات کے مطابق بنائی گئی ہیں۔ اسی کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہر ہدایت کے ساتھ ہمیشہ ایک شبہ کا عنصر (element to doubt) موجود رہتا ہے۔ تاکہ آدمی کا امتحان لیا جائے کہ وہ خدا کی دی ہوئی عقل سے شبہ کا پردہ پھاڑتا ہے یا نہیں۔ اس دنیا میں ہدایت صرف اس شخص کو ملتی ہے جو شبہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page