Al-Risala · February 1991 · page 18

مسائل ملت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۱۸

کے پردہ کو پھاڑ کر سچائی کو اس کی بے حجاب صورت میں دیکھ سکے۔ جو شخص اس امتحان میں پورا نہ اترے اس کو موجودہ دنیا میں کبھی ہدایت نہیں ملے گی۔

اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت پر غور کیجئے:

وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم فرشتہ اتاریں تو پھر معاملہ کا فیصلہ ہو جائے۔ اس کے بعد انھیں کوئی مہلت نہ ملے۔ اور اگر ہم کسی فرشتہ کو پیغمبر بنا کر بھیجتے تب بھی اس کو آدمی ہی کی صورت میں بھیجتے۔ اور لوگوں کو اسی شبہ میں ڈال دیتے جس شبہ میں وہ اب مبتلا ہو رہے ہیں (الانعام ۹)

اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی ہدایت کبھی اس طرح ہر ہنہ صورت میں نہیں آتی کہ آدمی کے لئے اس میں کچھ بولنے کی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ فرشتہ اگر اپنی اصل صورت میں خدا کا پیغام لے کر ظاہر ہو جائے تو کون ہو گا جو اس کے نمائندہ خدا ہونے پر شبہ کرے۔ اس لئے خدا اپنے پیغام کی پیغام رسانی کا کام انسانوں میں سے کسی انسان کے ذریعہ کرتا ہے تاکہ پیغام کی سچائی کے باوجود اس میں شبہ کا ایک پہلو باقی رہے۔

یہی اس دنیا کے لئے خدا کا قانون ہے۔ یہاں جب بھی ہدایت ظاہر ہوتی ہے، اس میں شبہ کا ایک پہلو بھی ضرور شامل رہتا ہے۔ یہی آدمی کا امتحان ہے۔ آدمی کو یہاں شبہ کے پردے کو پھاڑنا پڑتا ہے۔ جو آدمی شبہ کے پردے کو پھاڑ دے، وہ ہدایت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھ لے گا اور جو آدمی شبہ کے اس پردے کو پھاڑنے میں ناکام رہے، وہ ہدایت کو پانے میں بھی ناکام رہے گا۔

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر بصیرت کی صلاحیت رکھ دی ہے۔ یہ بصیرت گویا ایک قسم کی خدائی کسوٹی ہے۔ جو لوگ خدا کی دی ہوئی بصیرت کو بے آمیز روپ میں استعمال کریں، وہ اس امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ اس بصیرت کو بے آمیز روپ میں استعمال نہ کر سکیں وہ ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔

مسائل کے قرآنی حل کو پہچاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے۔ کیوں کہ جب بھی قرآن کے حوالہ سے اس کا بتایا ہوا حل پیش کیا جاتا ہے ، تو خواہ وہ کتنا ہی مدلل اور مبرہن ہو، اس میں شبہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page