Al-Risala · February 1991 · page 27

عصر کے ساتھ سیر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۷

عصر کے ساتھ سیر

قرآن میں ایک نہایت اہم اصول یہ بتایا گیا ہے کہ یہ دنیا کبھی یک طرفہ طور پر کسی کے لائے موافق نہیں ہو سکتی۔ خدا کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں ہمیشہ مشکل کے ساتھ آسانی بھی موجود رہے گی۔ کوئی شخص یا قوم جب بھی کسی محرومی سے دوچار ہو تو یقینی طور پر وہیں اس کے لئے امکانات اور مواقع کا نیا دروازہ بھی کھلا ہوا ہوگا۔ یہ اصول قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے : فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا اِنَّ مَعَ پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے الْعُسْرِ يُسْرًا (الانشراح) بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ اس دنیا میں نہ صرف یہ ہے کہ ہر مشکل کا ایک کامیاب حل ہمیشہ موجود رہتا ہے، بلکہ مزید اطمینان بخش بات یہ ہے کہ مشکل کے مقابلہ میں حل کی مقدار دو گنا ہوتی ہے۔ وہی وہ بات ہے جو حدیث میں ان لفظوں میں بتائی گئی ہے کہ لن يغلب عسر يسرين ایک مشکل دو آسانی پر غالب نہیں آسکتی)

ہندوستان کے مسلم رہنما اور دانشور اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ مسلسل یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اس ملک میں مسلمانوں کے لئے مشکلات ہیں۔ یہاں ان کے خلاف تعصب اور ظلم کیا جاتا ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا روزانہ یہی بات دہرا رہا ہے۔ مگر اس قسم کے بیانات خدا کی کتاب کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ مسلمان خدا کی کتاب کے بیانات پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر انہیں خدا کی کتاب پر یقین ہوتا تو وہ مشکل پیش آنے کی صورت میں آسانی کو تلاش کرتے۔ اس کے بعد وہ جان لیتے کہ جہاں مشکل پائی جارہی تھی، وہیں آسانی (اس کا حل بھی دگنا مقدار میں موجود تھا۔ اس کے بعد ان کے لئے اعلان کرنے کی چیز مسئلہ کا حل ہوتا نہ کہ صرف مسائل اور مشکلات۔ ہندو مسئلہ ہندوستان کے مسلمانوں کا عام ذہن یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہندو ان کے حق میں متعصب اور ظالم ہے ہندوؤں کے تعصب اور عناد نے ان کے لئے ناقابل حل مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ اس ملک میں ان کے لئے با عزت زندگی گزارنے کے تمام دروازے بند ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page