Al-Risala · February 1991 · page 28

عصر کے ساتھ سیر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۸

مگر یہ رائے جن ہندوؤں کے تجربات کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے وہ زیادہ تر عام قسم کے ہندو ہیں۔ وہ ہندو جو جلسہ اور جلوس کی بھیڑ میں اضافہ کرتے ہیں۔ جو سڑکوں پر جمع ہو کر نعرہ لگاتے ہیں۔ جو فساد کے موقع پر لوٹتے اور چلاتے ہیں۔ یہ سب ہندو عوام ہوتے ہیں نہ کہ ہندو خواص۔ مسلمانوں کو ہندو عوام یا ہندو فرقہ پرستوں کی طرف سے جو تجربہ ہو رہا ہے، اس کو وہ پوری ہند و قوم پر چسپاں کر دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ہندو سب کے سب ان کے مخالف ہیں۔

مگر یہ رائے خطرناک حد تک خلاف واقعہ ہے: ہندوؤں کا مذہبی طبقہ اور ہندو عوام دونوں میں بلاشبہ ایک ایسا گروہ ہے جو مسلمانوں کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ مگر ہندوؤں کا خواص طبقہ جس نے جدید طرز پر تعلیم حاصل کی ہے، اس کی بہت بڑی اکثریت فرقہ وارانہ عناد اور شورش کی سیاست میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتی۔ مزید یہ کہ یہی ہندو خواص ہیں جو اپنی تعلیم کی بنا پر ملک کے تمام کلیدی عہدوں پر قابض ہیں۔ وہی ملک کا پورا سیاسی اور اقتصادی نظام چلا رہے ہیں۔ اخبارات اور تمام اشاعتی ادارے انہی کے تحت چل رہے ہیں۔

اس معاملہ کی وضاحت کے لئے یہاں میں ایک حوالہ دوں گا۔ ٹائمز آف انڈیا (۹ فروری ۱۹۹۰ء) میں ایک مفصل آرٹیکل چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے مسٹر چندن مترا ہیں، اور اس کا عنوان ہے: Militant Hinduism is self-limiting مضمون نگار الہ آباد کے اگھ میلہ (جنوری ۱۹۹۰ء) میں موجود تھے جہاں وشو ہندو پریشد نے اپنا عظیم الشان جلسہ کیا تھا۔ وہ وشو ہندو پریشد اور دوسری فرقہ پرست ہندو جماعتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انھوں نے اگر چہ " رام جنم بھومی " کا جذباتی اشتولے کر عوامی ہندوؤں کی ایک بھیڑ اپنے گرد جمع کر لی ہے اور نومبر ۱۹۸۹ء کے الیکشن میں وقتی کامیابی بھی حاصل کی ہے، مگر مذہب کے نام پر اٹھنے والی ان ہندو جماعتوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہندوؤں کے طبقہ خواص کو اب تک اپنا ہم نوا نہ بنا سکے۔

وہ لکھتے ہیں کہ تاہم بی جے پی کا مسئلہ یہ ہے کہ دسیوں سال کی محنت کوشش کے باوجود وہ اس میں ناکام رہی ہے کہ سیکولر شہری ہندوؤں سے اپنے حق میں فکری جواز حاصل کر سکے جو کہ عوام کی رائے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اور یہ بعید از قیاس ہے کہ مستقبل قریب میں وہ اپنی اس کوشش

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page