دو مسجدوں کا قصہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۳۰
مزید یہ کہ قانون الہی کے مطابق، یہاں بھی عصر کے مقابلے میں پیسر کی طاقت زیادہ ہے۔ ہندوؤں کے فرقہ پرست طبقہ کے پاس صرف جذباتی نعرے ہیں۔ دوسری طرف جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا حال یہ ہے کہ وہی ہر قسم کے علمی، انتظامی، اقتصادی اور صحافتی اداروں پر قابض ہے۔ اعلیٰ سطح کے تقریباً تمام فیصلے اسی کے دفتروں سے کئے جاتے ہیں۔
دو مسجدوں کا قصہ
یہاں میں ایک تقابلی مثال پیش کرتا ہوں۔ اس سے اس اصول کی صداقت خالص عملی اور واقعی سطح پر ثابت ہوتی ہے۔ یہ اجودھیا اور دہلی کی مسجد کی مثال ہے۔
بابری مسجد (اجودھیا) کا مسئلہ اپنی موجودہ شکل میں ۱۹۸۶ میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے مسلم رہنماؤں کی رہنمائی میں کیا کیا۔ وہ اس مسئلہ کو سڑک پر لے آئے۔ جلسہ اور جلوس، ریلی اور مارچ، بائیکاٹ اور لاؤڈ اسپیکر کے شور کے ذریعہ انھوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی۔ یہ طریقہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہندو عوام اور ہندو مذہی طبقہ کی سطح پر حل کرنا تھا۔ چنانچہ وہ سراسر ناکام رہا۔
سڑک کی سیاست نے جوابی طور پر ہندوؤں میں اسی قسم کی شدید ترین سیاست پیدا کی۔ ہندوؤں کے مذہبی طبقہ کو یہ موقع ملا کہ وہ جذباتی اپیلیں کر کے ہندو عوام کو بھڑکا دیں۔ انھوں نے ہندو عوام سے کہا کہ ۱۹۴۷ میں ملک کے بٹوارے سے کو مان کہ ہم نے مسلمانوں کے مقابلہ میں پہلی شکست کھائی تھی، اب اجودھیا میں رام جنم بھومی کی تعمیر کے سوال پر ہم مسلمانوں سے دوسری شکست۔ (second defeat) کبھی قبول نہیں کریں گے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شمالی ہند کے ہندو عوام بھڑک اٹھے۔ جگہ جگہ خون ریز فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ عوامی ضد اور جوش نے مسئلہ کو پہلے سے بھی زیادہ پیچیدہ بنا دیا۔ جو چیز پہلے محدود و مقامی مسئلہ کی حیثیت رکھتی تھی وہ پورے ملک کے لئے قومی وقار کا مسئلہ بن گئی۔ مسلمانوں کو بابری مسجد تو حاصل نہیں ہوئی۔ البتہ بہت سی چیزیں جو اس سے پہلے انھیں حاصل تھیں وہ بھی انھوں نے اپنے غلط طریقی کار کے نتیجہ میں کھودیں۔ (اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لئے راقم الحروف کا مضمون "حکیمانہ تدبیر" ملاحظہ فرمائیں)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues