عصر کے ساتھ سیر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۹
میں کامیاب ہو سکے:
مذہبی طبقہ اگر سچے مذہب پر ہو تو وہ انصاف پر کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ مگر جب مذہبی طبقہ میں بگاڑ آجائے تو اس کے پاس تعصب کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہوتی جس پر وہ اپنے آپ کو کھڑا کرسکے۔ ہندوؤں کا موجودہ مذہبی طبقہ حقیقۃً ایک بگڑا ہوا اندھا ہی طبقہ ہے، اس لئے اس کا مذہب تمام تر تعصب پر مبنی ہے۔ وہ مذہبی سچائی پر نہیں بلکہ مسلم عناد کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔
ہندو عوام کا معاملہ بھی ایک اور اعتبار سے یہی ہے۔ ہندو عوام کی اکثریت جاہل اور غریب ہے۔ وہ ایک بے شعور انسانوں کی بھیڑ ہے۔ ایسے لوگوں کو کوئی بھی شوشہ کی بات کہہ کر بھرکا یا جا سکتا ہے ۔ اس کی ایک قریبی مثال یہ ہے کہ ہندو عوام پچھلی نصف صدی سے زیادہ تر کانگریس کو ووٹ دیتے آرہے تھے۔ مگر ۲۲ نومبر ۱۹۸۹ کو ہونے والے الیکشن میں فرقہ پرست ہندو جماعتوں نے اپنے عوام کو یہ کہہ کر بھر کا یا کہ راجیو گاندھی ایک سیکولر آدمی ہے۔ وہ خود پارسی کا بیٹا ہے، اور ایک عیسائی عورت سے شادی کئے ہوئے ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے اجودھیا میں مقدس رام مندر کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ یہ سن کر شمالی ہند کے ہندو بھڑک گئے اور انھوں نے مخالفانہ ووٹ دے کر راجیو گاندھی کی پارٹی کو شمالی ہند میں ہرا دیا۔
ان اسباب سے مسلمانوں کے لئے لعل عقل مندی کی بات یہ ہے کہ وہ اختلافی معاملات کو ہندو خواص کی سطح پر لا کر حل کریں۔ وہ اس کو ہندو عوام ، مذہبی طبقہ اور عوامی طبقہ تک نہ جانے دیں۔ موجودہ ہندو قوم میں دو مختلف طبقے کا ہونا قرآن کے اس اصول کے عین مطابق ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ عمر کے ساتھ ٹیسر موجود رہتا ہے۔ ہندوؤں کا فرقہ پرست طبقہ اگر مسلمانوں کے لئے عمر کے درجہ میں ہے، تو انہیں ہندوؤں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ مسلمانوں کے لئے ٹیسر کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذہبی طبقہ کے اندر اگر مسلمانوں کے خلاف تعصب و عناد ہے، تو تعلیم یافتہ طبقہ اپنی روشن خیالی کی بنا پر مسلمانوں کے معاملہ میں انصاف کا اور حقیقت پسندی کا فیصلہ کرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues