ہم پئیں، وہ نہ پئیں
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۳۲
کے نادان رہنماؤں نے اجودھیا کی مسجد کو جاہل عوام کی سطح پر حل کرنا چاہا۔ اس کے برعکس دھلی کی مسجد کے مسئلہ کو تعلیم یافتہ خواص کی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہی واحد وجہ ہے جس کے نتیجہ میں ایک مقام پر مسلمان مفتوح اور مغلوب ہوگئے اور دوسرے مقام پر انہوں نے شاندار فتح حاصل کی۔
یہ اصول صرف مسجد کے لئے خاص نہیں۔ مسلمان جس معاملہ میں بھی عوامی ہنگامہ کھڑا کریں گے وہاں ان کا ٹکراؤ عوامی ہندوؤں سے ہو جائے گا، اور آخر کار ان کو شکست ہوگی۔ اس کے برعکس جب وہ خاموش انداز اختیار کریں گے اور ہندوؤں کے خواص طبقہ سے ربط قائم کریں گے تو معاملہ ہندو خواص کی سطح پر رہے گا۔ ایسی صورت میں وہ ہمیشہ اپنے موافق فیصلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے، بشرطیکہ ان کا معاملہ انصاف اور صداقت پر مبنی ہو۔
ہم پئیں، وہ نہ پئیں
اس سلسلہ میں ایک صحابی کا قول نہایت با معنی اور سبق آموز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ بدر پیش آیا تو یہ سوال تھا کہ میدان جنگ کے لئے کس مقام کا انتخاب کیا جائے۔ ایک صحابی الحباب بن المنذر الجموح نے ایک مقام کی تجویز پیش کی۔ اس کی خصوصیت انھوں نے یہ بتائی کہ جب وہاں ہم ٹھہریں گے تو پانی کے چشمے ہمارے قبضہ میں آجائیں گے ۔ اور فریق ثانی پانی کے ذخائر سے محروم ہو جائے گا۔ اس تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پھر ہم پئیں گے اور وہ نہ پئیں گے (فنشر ب ولا يشربون)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو پسند فرماتے ہوئے فورا اس کو قبول کر لیا (سيرۃ ابن هشام ۲/۲۶۱)
اسی قسم کا معاملہ ہندوستان کا بھی ہے۔ موجودہ حالات میں اگر ہم اپنے مسئلہ کو ہندو عوام کی سطح پر لے جائیں تو ایسی صورت میں ہندوؤں کا فرقہ پرست طبقہ پانی پئے گا ، اور مسلمان پانی سے محروم رہ جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم اپنے مسئلہ کو ہندو خواص کی سطح پر رکھ کر طے کریں تو ایسی صورت میں پانی سلمان کے حصہ میں آئے گا ، اور ہندو فرقہ پرست پانی سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ دور اول کی مثال عوام اور خواص کے اس فرق کی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بھی موجود ہے۔ رسول اللہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues