Al-Risala · February 1991 · page 34

حرف آخر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۳۴

ہوئے صرف نجاشی کے سامنے اپنی بات پیش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نجاشی نے مکمل طور پر مسلمانوں کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ اس نے مشرکین مکہ کے وفد کو دربار سے نکال دیا۔ اور مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ جب تک چاہو حبش میں عزت کے ساتھ رہو۔ یہاں سے نکلنے پر تمہیں کوئی مجبور نہیں کر سکتا (سیرۃ ابن کثیر جلد ثانی)

حرف آخر

یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ مقابلہ کی یہ صورت حال ہمیشہ باقی رہے گی، کیوں کہ اس کو کسی "دشمن اسلام" نے قائم نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس کو خود خدا نے اپنی دنیا میں قائم کیا ہے۔ اس لئے مخالفین کی سازش اور فساد کو لے کر اس کے خلاف فریاد کرنا سراسر احمقانہ ہے۔ اس قسم کی فریاد کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔

اس دنیا میں کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ حالات کو سمجھا جائے ۔ "مخالفین" کے منصوبوں کو جان کر ان کے خلاف حکیمانہ انداز میں جوابی منصوبہ بندی کی جائے مخالف حالات کو اپنے موافق بنانے کی کوشش کی جائے۔ ہر پیش آنے والے عسر کو تیسری طاقت سے زیر کیا جائے ۔ اس دنیا میں کامیابی اس شخص کے لئے ہے جو مشکل کو اپنی غذا بنائے ، جو ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کر سکے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو ، ان کے لئے صرف یہ انجام مقدر رہے کہ وہ حالات کے خلاف بے فائدہ احتجاج کرتے رہیں، یہاں تک کہ تاریخ کے قبرستان میں ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائیں۔ روشن مستقبل الرسالہ جنوری ۹۱ خصوصی نمبر کے طور پر بعنوان "روشن مستقبل" شائع کیا گیا تھا۔ جس میں ملک کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اب اس شمارہ کو علیحدہ سے ایک مستقل کتابچہ کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس گوہر طبقہ کے لوگوں تک پہنچایا جائے ۔ جو حضرات اس کو زیادہ تعداد میں منگو اکرفسیم کرنا چاہیں ان کو خصوصی رعایت کے ساتھ یہ کتابچہ فراہم کیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page