Al-Risala · January 1992 · page 10

کامیابی کا ٹکٹ

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۱۰

کامیابی کا ٹکٹ

امریکہ میں ایشیائی ملکوں سے آئے ہوئے جو لوگ آباد ہیں ان کو عام طور پر ایشیائی امریکی (Asian American) کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر 1965 کے بعد یہاں آئے۔ امریکہ میں ان کی موجودہ تعداد تقریباً 2 فی صد ہے۔ ان میں کچھ یہودی ہیں، کچھ بدھسٹ ہیں، کچھ کنفیوشش کو ماننے والے ہیں۔ اور اسی طرح بعض دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔

امریکہ میں اپنے مستقبل کی تعمیر کا مطلب اگر وہ یہ سمجھتے کہ ان کے فرقہ کا آدمی صدر کے عہدہ پر پہنچ جائے تو انھیں امریکہ میں اپنے لیے ترقی کا دروازہ بالکل بند نظر آتا۔ کیوں کہ صدر کے عہدہ کے لیے امریکہ کا پیدائشی شہری (natural-born citizen) ہونا ضروری ہے، اور ایشیائی لوگ اس تعریف میں نہیں آتے۔ صدارت کو اپنا نشانہ بنانے کی صورت میں ایشیائی مہاجرین یا تو مایوسی کا شکار ہوتے یا اس بات کی ناکام مہم چلاتے کہ امریکی دستور میں ترمیم کر کے صدارت کی اس شرط کو ختم کیا جائے تاکہ ان کا آدمی بھی صدر کے عہدہ کے لیے جائز امیدوار بن کر کھڑا ہو سکے۔ مگر ایشیائی امریکیوں نے اس قسم کی حماقت نہیں کی۔ انھوں نے اپنے واقعی حالات کے اعتبار سے امریکہ کا جائزہ لیا تو انھیں نظر آیا کہ یہاں ان کے جیسی اقلیت کے لیے اگرچہ صدارتی عہدہ تک پہنچنے کے مواقع نہیں ہیں، مگر اعلیٰ تعلیمی عہدوں تک پہنچنے کے مواقع پوری طرح موجود ہیں۔ انھوں نے پایا کہ تعلیم ان کے لیے کامیابی کے ٹکٹ (ticket to success) کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے اپنی ساری طاقت تعلیم کے حصول میں لگا دی۔ چنانچہ انھیں زبردست کامیابی حاصل ہوئی، حتیٰ کہ تعداد میں 2 فی صد ہوتے ہوئے وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 20 فی صد سیٹوں تک پر قابض ہو گئے۔ یہی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ مواقع آدمی کے لیے کھلے ہوتے ہیں اور کچھ مواقع اس کے لیے کھلے ہوئے نہیں ہوتے۔ آدمی کی بہترین عقل مندی یہ ہے کہ وہ کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرے ۔ اگر اس نے بند دروازوں سے سر ٹکرایا تو دروازہ تو نہیں کھلے گا، البتہ اس کا سر ضرور ٹوٹ جائے گا۔ خاص طور پر تعلیم آج کی دنیا میں کامیابی کا ٹکٹ ہے، اور اس ٹکٹ کو حاصل کرنے کے مواقع ہر آدمی کے لیے ہر جگہ کھلے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page