Japan’s bid to excel the US in supercomputers.
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۹
جن مواقع پر دوسرے لوگ قابض ہو چکے ان کو ان سے چھیننے کی کوشش کرنا عقل مندی نہیں۔ عقل مندی یہ ہے کہ جو مواقع ابھی باقی ہیں ان پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ ٹائمز آف انڈیا ۱۳ اپریل ۱۹۸۹ (سیکشن ۲ ، صفحہ ۴) میں نیو یارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے ۔ ______________ سپر کمپیوٹر میں امریکہ سے آگے بڑھ جانے کے لیے جاپان کی کوشش :
Japan’s bid to excel the US in supercomputers.
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپر کمپیوٹر کے میدان میں امریکہ کا طویل مدت کا غلبہ اب مشتبہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کی ایک کارپوریشن کے تجزیہ کاروں نے مطالعہ کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ جاپان کا بنایا ہوا ایک سپر کمپیوٹر ۱۹۹۰ میں مارکیٹ میں آجائے گا۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ تیز کام کرنے والی مشین ہوگی۔ جاپانیوں نے اس نئے کمپیوٹر کا نام ایس ایکس ایکس (SX-X) رکھا ہے۔ اس کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ وہ ایک سیکنڈ میں سائنٹفک قسم کے حساب کے ۲۰ بلین آپریشن کر سکتا ہے۔ یہ جاپانی کمپیوٹر امریکہ کے تیز ترین کمپیوٹر سے ۲۵ فیصد زیادہ تیز رفتار ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی مزید خصوصیت یہ ہے کہ کامل صحت کار کردگی کے ساتھ نسبتاً وہ کم خرچ بھی ہے ۔
اس سپر کمپیوٹر کی اہمیت صرف سائنٹفک ریسرچ ، تیل کی تلاش اور موسم کی پیشین گوئی جیسی چیزوں ہی تک محدود نہیں ہے ۔ بلکہ وہ نیشنل سیکورٹی کے لیے بھی بے حد اہم سمجھا جاتا ہے ۔ کیوں کہ وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔
نئے جاپانی کمپیوٹر نے دنیا کو ایک نئے صنعتی دور میں پہونچا دیا ہے ۔ موجودہ کمپیوٹر جو کسی زمانہ میں ”جدید“ سمجھے جاتے تھے ، اب وہ روایتی اور تقلیدی بن کر رہ گیے ہیں۔ حتیٰ کہ جاپان کی اس ایجاد نے اس کو خود فوجی میدان میں بھی برتری عطا کر دی ہے ۔
امریکہ نے ”سپر بم“ بناکر ۱۹۴۵ میں جاپان کو تباہ کر دیا تھا۔ مگر وہ جاپان سے یہ امکان نہ چھین سکا کہ وہ ” سپر کمپیوٹر “ بناکر دوبارہ نئی زندگی حاصل کرلے اور صرف ۴۵ سال کے اندر تاریخ کا رخ موڑ دے ۔ تخریب ، خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو، وہ تعمیر نو کے مواقع کو ختم نہیں کرتی، اور تعمیر کی طاقت ، بہر حال تخریب کی طاقت سے زیادہ ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues