روزہ کا بیان
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۱۲
سحری میں برکت ہے (تَسَحَّروا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً) ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں مجھے سحری کے لیے بلایا تو فرمایا کہ آؤ ، مبارک کھانا کھاؤ۔ ایک اور صحابی کہتے ہیں کہ رمضان میں فجر سے پہلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاسی آیا تو آپ سحری کھارہے تھے، آپ نے فرمایا کہ سحری ایک برکت ہے جو اللہ نے تم کو دی ہے تو اس کو نہ چھوڑو (جامع الاصول)
فجر سے پہلے سحری کھانا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اللہ جب بظاہر کسی سخت کام کا حکم دیتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے لیے آسانی کا انتظام بھی فرما دیتا ہے۔ وہ روزہ کا حکم دیتا ہے تو اس کے ساتھ سحری کی رخصت بھی دیتا ہے۔ وہ دعوت کی ذمہ داری ڈالتا ہے تو مدعو کے مقابلہ میں داعی کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لے لیتا ہے۔ وہ بوقت جارحیت جہاد کی ترغیب دیتا ہے تو اسی کے ساتھ فرشتوں سے یہ بھی فرمادیتا ہے کہ مجاہدین کو خصوصی مدد پہنچا کر انہیں کامیاب کرو۔
اللہ کے حکم میں بظاہر سختی یا مشکل نظر آئے تو مومن کو توکل کا طریقہ اختیار کرکے اس کی طرف بڑھ جانا چاہیے۔ کیوں کہ اللہ صرف حکم نہیں دیتا بلکہ اپنے حکم کے تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے۔ وہ انسان کو آزمائش میں ڈالنے کے ساتھ اس کو سنبھالتا بھی ہے، وہ آزمائش کے وقت انسان کی نصرت کا انتظام بھی فرماتا ہے۔ سحری یا بالفاظ دیگر، اپنا آخری کھانا کھانے کے بعد، مومن اپنا دن شروع کرتا ہے۔ روزانہ جو کام وہ روزہ کے بغیر کرتا تھا، انہیں کاموں کو اب وہ روزہ دار بن کر انجام دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ہر کام میں نئی نفسیات شامل ہوجاتی ہے۔ وہ نماز پڑھتا ہے، وہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ وہ اللہ کی یاد کرتا ہے۔ وہ لوگوں سے مختلف معاملات کرتا ہے۔ ہر کام ظاہر کے اعتبار سے حسب معمول ہوتا ہے۔ مگر اندرونی حالت کے اعتبار سے اب اس کا کام نئی کیفیات سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ پہلے جو کام روٹین کے طور پر ہوتا تھا، اب وہ زندہ عمل کے طور پر ہونے لگتا ہے۔ پہلے جو کام بے کیف طریقہ سے ہوتا تھا، اب وہ کام کیفیت کے ساتھ ہونے لگتا ہے۔ روزہ اس کے معمول کے کام کو غیر معمولی کام بنا دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے لمحات گزارتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ شام ہوتی ہے اور افطار کا وقت آجاتا ہے۔ اب وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کھانا اور پانی اپنے منہ میں ڈالتا ہے۔ جس اللہ کے حکم سے وہ اس سے پہلے کھانے اور پانی سے رکا تھا، اسی اللہ کے حکم سے اب وہ دوبارہ کھانے اور پانی سے اپنے منہ کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues