روزہ کا بیان
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۱۱
اب انہیں روزانہ یہ جاننے کے لیے فکر مند ہونا ہے کہ صبح ٹھیک ٹھیک کس وقت شروع ہوگی، اور سورج کتنے بج کر کتنے منٹ پر غروب ہوگا۔ کیوں کہ روزہ ان کے لیے اس بات کا اعلان بن کر آتا ہے کہ اب انہیں اپنی زندگی کے نظام میں اوقات کی نئی رعایت کرتے ہوئے چلنا ہے۔
دوسرے دنوں میں ایسا تھا کہ جب بھوک لگی تو کھانا کھا لیا، جب پیاس لگی تو پانی پی لیا۔ گویا بقیہ دنوں میں بھوک اور خواہش ان کی رہنما تھی، مگر اب اصول ان کی زندگی کا رہنما بن جاتا ہے۔ اب ان کو نہایت صحت کے ساتھ یہ جاننا پڑتا ہے کہ رات کو کتنے بج کر کتنے منٹ تک کھانا ہے۔ اس کے بعد کھانا پینا بالکل بند کر دینا ہے۔ اور پھر شام کو دوبارہ ٹھیک کتنے بجے کھانے پینے میں مشغول ہونا ہے۔ جو دن پہلے کسی احتیاط اور اندیشہ کے بغیر گزرتے تھے، اب انہیں دنوں کو اس زندہ احساس کے ساتھ گزارنا پڑتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا ہے۔ ایسا نہ کرو، ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا، ویسا نہ کرو ورنہ روزہ رکھ کر بھی تم بے روزہ ہو جاؤ گے۔ روزہ آدمی کے لیے ایک خصوصی تربیت گاہ میں داخلہ ہے۔ روزہ کے دنوں میں آدمی کے تمام اوقات اس مشق میں گزرتے ہیں کہ آدمی کی حد کیا ہے۔ وہ کہاں تک جاسکتا ہے اور کہاں تک نہیں جاسکتا۔ اس کو کس طرح رہنا چاہیے اور کس طرح نہیں رہنا چاہیے۔ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے روزمرہ کے معمولات میں "کیا کر سکتے ہو، کیا نہیں کر سکتے" کا مسئلہ کھڑا کر کے اس کو تیار کیا جائے کہ اسی کو وہ اپنا مستقل مزاج بنا لے۔ یہ با اصول زندگی کی تربیت ہے اور اسی قسم کی با اصول زندگی مومن سے ساری عمر کے لیے مطلوب ہے۔
روزہ کا پہلا عمل یہ ہے کہ آدمی روزہ کی نیت کرے۔ حدیث میں آتا ہے کہ لا يصوم إلا من أجمع الصيام قبل الفجر (روزہ صرف وہ شخص رکھے جو فجر سے پہلے اس کا ارادہ کرے) مثلاً وہ کہے کہ میں نے کل کے دن روزہ رکھنے کی نیت کی (وبصوم غد نویت)
اس سے معلوم ہوا کہ روزہ ایک ارادی عمل ہے نہ کہ محض ایک رسمی عمل۔ وہ شعور کے تحت انجام دیا جاتا ہے نہ کہ غفلت اور بے خبری کے تحت۔ یہی معاملہ پورے دین کا ہے۔ دین پورا کا پورا شعور سے تعلق رکھتا ہے۔ وہی شخص دین دار ہے جو دینی اعمال کو زندہ شعور کے تحت ادا کرتا ہو۔
پھر فجر سے پہلے آخری کھانا کھایا جاتا ہے جس کو سحری کہتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ سحری کھاؤ، کیونکہ اپریل ۱۹۹۰ء الہلال 11
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues