Al-Risala · March 1992 · page 18

روزہ کا بیان

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۱۸

اس کو گویا ابھی تک عبادت الہی کا ذائقہ نہیں ملا۔

رمضان کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس مہینہ میں لیلۃ القدر (شب قدر) ہوتی ہے۔ لیلۃ القدر کے معنی ہیں فیصلے کی رات۔ سال میں ایک خاص رات ہے جس میں اللہ تعالی کے سالانہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یہ رات رمضان کے آخری عشرہ میں آتی ہے۔ اس رات کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کو ہزار مہینوں سے بہتر بتایا گیا ہے۔

غالباً اس رات کو بہت زیادہ فرشتے اترتے ہیں۔ یہاں تک کہ زمین پر فرشتوں کی کثرت ہو جاتی ہے۔ اسی بنا پر اس رات کو زمین پر مخصوص روحانی ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر روحانی تاثر پذیری کا مادہ ہو، وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس تاثر کی بنا پر ان کے قول و عمل میں غیر معمولی ربانی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس اضافہ شدہ کیفیت کی بنا پر اس رات میں ان کے عمل کی قدر و قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔

حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں لیلۃ القدر کو پاؤں تو میں کس طرح دعا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ اس طرح کہو : اَللّٰھُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، تو مجھے معاف فرما)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی سے مانگنے کی سب سے بڑی چیز کیا ہے۔ اللہ سے مانگنے کی سب سے بڑی چیز معافی ہے۔ معافی وہ چیز ہے جو آدمی کے لیے سب سے بڑی سعادت کا دروازہ کھولتی ہے۔ وہ آدمی کو ابدی جنت میں پہنچانے والی ہے۔ پھر سب سے بہتر وقت میں سب سے بہتر مانگنے کی چیز معافی کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔

رمضان کے مہینہ کا ایک عبادتی عمل وہ ہے جس کو اعتکاف کہا جاتا ہے۔ یعنی مہینہ کے آخر میں دس دن یا اس سے کم یا زیادہ مدت کے لیے مسجد میں بیٹھنا۔ یہ اعتکاف رمضان کے عام اعمال سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ رمضان کے عام اعمال ہی کی زیادہ مرتکز صورت ہے۔ رمضان کے دن اور رات میں ایک روزہ دار جو کچھ کرتا ہے ، اسی کو مزید یکسوئی اور اہتمام کے ساتھ کرنے کے لیے وہ اپنے ماحول سے الگ ہو کر چند دنوں کے لیے مسجد میں بیٹھ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page