روزہ کا بیان
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۱۷
کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔
یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے صوم اسپرٹ کہا ہے۔ موجودہ دنیا میں مومن کا رویہ ردعمل کا رو یہ نہیں ہوتا۔ مومن کے لیے درست نہیں کہ کوئی شخص اس کو غصہ دلائے تو وہ غصہ میں آکر اس سے لڑنے لگے، مومن کو اپنی زبان یا اپنے رویہ سے یہ بتانا چاہیے کہ میں تم سے مختلف آدمی ہوں۔ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں۔ میں نے اپنے آپ کو خدا مرضی کا پابند بنارکھا ہے۔ میں تمہاری طرح بے قید نہیں ہوں کہ جو چاہوں کرنے لگوں۔
روزہ گویا خواہشات پر روک لگانے کی مشق ہے۔ رمضان کے مہینہ میں اس کی مشق اس آخری حد پر کرائی جاتی ہے کہ آدمی کو کھانا اور پانی جیسی ضروری چیزوں کے استعمال سے بھی روک دیا جاتا ہے۔ کھانا پینا انسان کے لیے بالکل جائز ہے۔ مگر روزہ کے دنوں میں اس ضروری چیز پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے، تاکہ آدمی کو موجودہ دنیا میں جو پابند زندگی گزارنا ہے، اس کا احساس اس کو آخری حد تک کرایا جاسکے۔
رمضان کے مہینہ میں جو اعمال کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک عمل تراویح ہے۔ یعنی عشاء کی نماز کے بعد جماعت کے ساتھ کچھ اور نمازیں ادا کرنا۔ تراویح در اصل تہجد ہے۔ عام لوگوں کی سہولت کی بنا پر اس کا وقت کچھ پہلے مقرر کر دیا گیا ہے۔
تہجد کو قرآن میں نافلہ (بنی اسرائیل 79) کہا گیا ہے۔ نافلہ کے معنی زائد یا مزید کے ہوتے ہیں۔ گویا تہجد (یا تراویح) عبادت مزید ہے۔ جب کوئی شخص کسی کے بارہ میں بہت اعلیٰ جذبات پا رہا ہو تو وہ اس کے لیے ضروری فرائض سے زیادہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ بندے کے اندر یہی احساس اپنے رب کے بارہ میں اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مقررہ عبادت کے ساتھ کچھ مزید عبادت ادا کرے ۔ اہل ایمان کے اوپر پانچ وقت کی نماز کی فرض کی گئی ہے۔ مگر ایک سچا مومن عین اپنے فطری تقاضے کے تحت چاہتا ہے کہ وہ اپنے رب کی کچھ اور بھی عبادت کرے ۔ اسی عبادت مزید کی ایک شکل تہجد ہے۔ رات کی اس نماز کو جب موخر کر کے پڑھا جائے تو اس کو تہجد کہا جاتا ہے۔ اور رات کی اس نماز کو جب مقدم کر کے پڑھیں تو اسی کا نام تراویح ہے۔
تراویح کے ذریعہ گویا اجتماعی نظم کے تحت مسلمانوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ تم کو عبادت مفروضہ ذاریخ ۱۹۹۲ | المسائل 17
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues