صبر کا مہینہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۳۵
روزہ قربانی کا عمل ہے اور قربانی کا عمل سب سے زیادہ اعلیٰ عمل ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں روزہ کی اس امتیازی خصوصیت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ ، ( متفق عليه ) حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن آدم کا ہر نیک عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ بندہ اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو میرے لیے چھوڑتا ہے ۔ روزہ دار کے لیے دو خوشی ہے ۔ ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملے گا۔ روزہ عام عبادات سے الگ ایک عبادت ہے۔ روزہ میں آدمی اپنی جائز خواہش کو اور اپنے جائز کھانے کو اللہ کی خاطر چھوڑ دیتا ہے۔ گویا روزہ دار روزہ رکھ کر اپنے اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ کی خاطر اگر اس کو انتہائی ضروری اور جائز چیزوں سے جدائی اختیار کرنا پڑے تو اس سے بھی وہ دریغ یں کرے گا۔ روزہ کی یہی وہ امتیازی خصوصیت ہے جس کی بنا پر اس کا امتیازی ثواب رکھا گیا ہے۔ موجودہ دنیا میں حق پرست بننے کے لیے صرف یہی کافی نہیں کہ آدمی غلط اور صحیح کے درمیان تمیز کرتا ہو ۔ مختلف حالات کے اعتبار سے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ممنوعات کی فہرست مزید وسیع ہو جاتی ہے۔ کبھی ضروری ہو جاتا ہے کہ آدمی کھانا پینا بھول کر اپنی ڈیوٹی انجام دے ۔ وہ عمل کے بجائے اعراض کا طریقہ اختیار کرے ۔ وہ نہ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوئے بھی نہ کرے ۔ الفاظ رکھتے ہوئے وہ نہ بولے اور پاؤں رکھتے ہوئے وہ نہ چلے ۔ ایک کام کو بظاہر صحیح سمجھتے ہوئے بھی اس کی طرف اقدام کرنے سے باز رہے۔
روزہ اسی قربانی کا سبق ہے۔ اس دنیا میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک جائز چیز بھی آدمی کے لیے ناجائز بن جاتی ہے ۔ اور ایک مطلوب چیز بھی نا مطلوب کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ جو لوگ اس اعلیٰ ایمانی درجہ پر پورے اتریں ان کے لیے اللہ کے یہاں اتنا بڑا اجر ہے جس کا نہ کوئی شمار ہے اور نہ کوئی حساب ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues