Al-Risala · March 1992 · page 34

صبر کا مہینہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۳۴

صبر کا مہینہ

بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت رمضان سے متعلق نقل کی ہے۔ اس کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر میں خطبہ دیا۔ اس میں آپ نے ماہ رمضان کا تذکرہ کیا اور فرمایا : هو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة (وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے حقیقت یہ ہے کہ روزہ صبر کی تربیت ہے اور صبر تمام کامیابیوں کا ذریعہ۔ دین میں سب سے پہلی چیز ایمان ہے۔ ایمان کیا ہے۔ ایمان غیبی حقیقت کی دریافت ہے۔ آدمی اپنے آپ کو ظاہری فائدوں اور مادی رونقوں سے اوپر اٹھاتا ہے تب اس کو باطنی گہرائیوں کا ادراک ہوتا ہے۔ یہ ایک صابرانہ عمل ہے۔ اس صابرانہ عمل کے بغیر کسی کو ایمان کی اعلیٰ معرفت حاصل نہیں ہوتی۔ اس دنیا میں کوئی شخص ذہنی برداشت سے گزر کر ہی ذہنی یافت تک پہنچتا ہے۔ مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اسلامی اخلاق کے ساتھ رہے۔ یہاں دوبارہ صبر کی ضرورت ہے۔ یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں دوسروں کی طرف سے بار بار زیادتی کا تجربہ ہوتا ہے ایسی حالت میں لوگوں کے ساتھ اسلامی اخلاق کا معاملہ وہی شخص کر سکتا ہے جو لوگوں کی زیادتیوں کو برداشت کرے۔ اسلامی اخلاق ایک طرف حسن سلوک کا نام ہے ، اور صبر کے بغیر ایک طرف حسن سلوک کا ثبوت دینا کسی کے لیے ممکن نہیں۔

مومن ایک داعی انسان ہوتا ہے۔ مومن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے بندگان خدا تک خدا کے دین کا پیغام پہنچائے۔ دعوت کا یہ کام صبر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ دعوتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا پائی جائے ۔ مدعو سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس قسم کی معتدل فضا پیدا کرے گا۔ اس لیے داعی کو یہ ذمہ داری لینی پڑتی ہے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو نظر انداز کرے تاکہ دعوت کا ماحول بگڑنے نہ پائے۔ اور تلخیوں کو نظر انداز کرنے کا یہ معاملہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی صبر کی سطح پر جینے کے لیے تیار ہو۔

روزہ کا مہینہ اسی صبر کی تربیت کا مہینہ ہے۔ اور صبر وہ اعلیٰ انسانی صفت ہے جس میں دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page