خیل صیام و خيل غير صائمة
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۳۷
غزوہ بدر (رمضان ۲ھ)
جب کہ رسول اور اصحاب رسول کو قریش کے اوپر فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی ۔ فتح مکہ (رمضان ۸ھ) جس نے پورے عرب پر اسلام کو غالب کر دیا ۔ غزوہ تبوک (رمضان ۹ھ) جس نے رومیوں کے اوپر اہلِ اسلام کی دھاک قائم کر دی ۔ غزوہ تبوک رجب میں شروع ہو کر رمضان میں ختم ہوا ۔
فلسطین (رمضان ۱۵ھ) عمروبن العاص نے فلسطین کو فتح کر کے بیت المقدس کو اسلام کے حدود سلطنت میں شامل کیا ۔
معرکہ اسپین (رمضان ۹۱ ھ) جب کہ طارق بن زیاد نے اسپین میں کامیاب پیش قدمی کی ۔ سندھ (رمضان ۹۶ ھ) محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوئے اور وہاں اسلام کو پھیلایا ۔ دولتِ اندلس (رمضان ۱۳۸ ھ) عبدالرحمٰن الداخل اندلس میں داخل ہوئے اور وہاں باقاعدہ دولت امویہ قائم کی ۔
صقلیہ (رمضان ۲۱۲ ھ) زیاد بن الاغلب نے جزیرہ صقلیہ کو فتح کیا ۔ حروبِ صلیبیہ (رمضان ۵۸۴ ھ) حطین کی مشہور جنگ میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبی طاقتوں پر فتح حاصل کی ۔
معرکہ عین جالوت (رمضان ۶۵۸ ھ) جس نے تاتاریوں کو شکست دے کر مسلم دنیا میں ان کی پیش قدمی کو روک دیا ۔
معرکہ سوئز (رمضان ۱۳۹۳ ھ) جب کہ مصری فوجوں نے اسرائیلی فوجوں کو شکست دے کر نہر سوئز پر دوبارہ قبضہ کر لیا ۔
اس قسم کے تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ روزہ اور جدوجہدِ حیات میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ روزہ کی مشقت آدمی کو کمزور نہیں کرتی ۔ بلکہ وہ اُس کو اس قابل بناتی ہے کہ زندگی کے معرکہ میں وہ زیادہ قوت اور طاقت کے ساتھ حصہ لے سکے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues