روزہ کی حقیقت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۳۸
روزہ کی حقیقت
غالباً ۱۹۳۴ء کی بات ہے۔ گورکھ پور میں ایک بڑے مسلم افسر رہا کرتے تھے۔ رمضان کے مہینے میں کچھ روز کے لئے ان کے یہاں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔ ان کے بنگلہ کے سامنے ایک علیحدہ بیٹھک بنی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ روزانہ صبح کو ایک ”حافظ صاحب “قرآن بغل میں لئے ہوئے آتے ہیں۔ کچھ دیر بیٹھ کر تلاوت کرتے ہیں، پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ ”یہ کون صاحب ہیں جو روزانہ صبح کو یہاں آتے ہیں۔ “ کئی روز تک یہ منظر دیکھنے کے بعد میں نے صاحب خانہ سے پوچھا۔ میرا سوال سن کر پہلے وہ ہنسے۔ اس کے بعد جواب دیا: ”بات یہ ہے کہ میں روزہ نہیں رکھ پاتا۔ اس لئے میں نے حافظ صاحب کو مقرر کر دیا ہے کہ وہ رمضان کے پورے مہینے میں میرے یہاں آکر قرآن پاک کی تلاوت کر دیا کریں۔ مہینہ کے ختم پر ان کی کچھ خدمت کر دوں گا یہ ایک ”بے روزہ دار“ کا قصہ تھا۔ اب روزہ داروں کو دیکھئے ۔ ایک بار میں نے اذان کی آواز آنے سے پہلے گھڑی دیکھ کر افطار کر لیا۔ کئی لوگ سنجیدگی سے اس شبہ میں پڑ گئے کہ میرا روزہ نہیں ہوا۔ آج کل کے روزہ داروں کا حال یہ ہے کہ وہ اس کا سخت اہتمام کریں گے کہ طلوع سحر سے کچھ منٹ پہلے کھانا پینا بند کر دیں اور غروب آفتاب کے کچھ منٹ بعد افطار شروع کریں۔ اس کا نام انھوں نے ”احتیاط“ رکھا ہے۔ ایک طرف اوقات روزہ میں احتیاط کا یہ عالم کہ سحری میں تعجیل اور افطار میں تاخیر کی حد تک اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ صریح طور پر سنت کے خلاف ہے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ افطار میں تعجیل (جلدی) کرتی رہے گی۔ دوسری طرف مقاصد روزہ میں بے احتیاطی کا یہ حال ہے کہ وہ اس کو ضروری نہیں سمجھتے کہ روزہ رکھ کر کسی کی برائی نہ کریں ، کسی سے جھگڑا نہ کریں ، منہ سے جھوٹ بات نہ نکالیں۔ حالانکہ حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص روزہ رکھ کر جھوٹ بات کرے تو اس کا روزہ روزہ نہیں۔ اسی طرح دوسری حدیث میں ہے کہ کوئی روزہ دار کسی مسلمان کی غیبت کرے تو گویا اس نے خدا کی حلال کی ہوئی چیز سے روزہ رکھا اور اس کی حرام کی ہوئی چیز سے افطار کر لیا۔
یہ دونوں واقعات بظاہر ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ ایک جگہ روزہ داری ہے ، دوسری جگہ بے روزہ داری لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو دونوں کی شعوری سطح ایک نظر آئے گی ۔ دونوں عبادت یا روزہ کو ایک قسم کا رسمی عمل سمجھ رہے ہیں نہ کہ ایک ایسا عمل جو انسان کی انوونی گہرائیوں سے نکلتا ہے ، جو اس کے پورے وجود کا نمائندہ ہوتا ہے۔ عبادت کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ ایک زندہ عمل ہو۔ دوسرا یہ کہ وہ محض ایک رسم ہو۔ زندہ عمل آدمی کے پورے وجود سے نکلتا ہے۔ وہ اس کی مکمل ہستی کا ایک اظہار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس رسم کی حیثیت محض ایک بے روح خارجی عمل کی ہوتی ہے۔ آدمی قلب در روح کو اس میں شامل کئے بغیر اوپری طور پر اسے انجام دے دیتا ہے۔ مثال کے طور پر تنہائیوں میں اللہ کو یاد کر کے رونا ایک عبادت ہے جب کہ اپنے دنیوی دھندوں میں مشغول رہتے ہوئے تسبیح کے دانوں پر ”اللہ اللہ “ شمار کرنا محض ایک رسم۔ تنہائی میں مومن کی آنکھ سے جو آنسو نکلتے ہیں وہ اس کی پوری ہستی کا نچوڑ ہوتے ہیں، جبکہ لفظ ”اللہ“ کو شمار کرنے والا صرف یہ کرتا ہے کہ پلاسٹک کے دانوں کو مقررہ تعداد میں دھاگے میں پرو لیتا ہے اور اپنے مشاغل میں مصروف رہتے ہوئے محض انگلیوں کی حرکت کو اوپر اس کو گنتا رہتا ہے۔ زندہ عمل میں آدمی اور اس کے عمل کے درمیان گہرا نفسیاتی رابطہ ہوتا ہے جب کہ رسم میں دونوں کے درمیان اس قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues