دعا اور روزہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۴۰
امام احمد اور امام الترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عرض علی ربی لیجعل لی بطحاء مكة ذہباً۔ فقلتُ لا يا رب۔ ولكن اشبَعُ يوماً و أجوعُ يوماً۔ فاذا جعتُ تضرّعتُ اليكَ وذكرتُكَ واذا شبِعتُ حَمِدتُك و شكرتُكَ (مشكاة المصابیح ۱۴۴۳/۳)
میرے رب نے مجھ کو یہ پیشکش کی کہ میرے لیے مکہ کی وادی کو سونا بنا دے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب، نہیں۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک دن کھاؤں اور ایک دن بھوکار ہوں۔ پھر جب مجھے بھوک لگے تو میں تیری طرف تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں اور جب میں کھاؤں تو میں تیری تعریف کروں اور تیرا شکر کروں۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے بغیر کیفیات پیدا نہیں ہوتیں۔ یہ ضروری ہے کہ آدمی کے اوپر مختلف حالات گزریں تا کہ اس کے دوران آدمی کے اندر مطلوب کیفیات پیدا ہوں۔ حالات نہیں تو کیفیات بھی نہیں۔
آدمی کو جب بھوک پیاس ستانے تو اس کو اپنے عجز کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے اندر اللہ کی طرف جھکاؤ پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر جب وہ پانی پیتا ہے اور کھانا کھاتا ہے تو اس کی روح کو سیری حاصل ہوتی ہے۔ اس کے دل سے شکر اور حمد کے جذبات امنڈ پڑتے ہیں۔ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی پر بھوک پیاس کے حالات طاری کر کے اس کے اندر انابت کی کیفیت پیدا کرے۔ یہی انابت دعا کی روح ہے۔ جب آدمی کے اندر انابت ابھرتی ہے اسی وقت اس کے اندر سے وہ دعا نکلتی ہے جو سیدھی عرش الہی تک پہنچ جائے۔ الرسالة کیسٹ - ارکان اسلام سیٹ - حقیقت ایمان - حقیقت نماز - حقیقت روزه ارکانِ اسلام اہمیت ۴ - حقیقتِ زکوٰۃ ۵ - حقیقتِ حج ہر فی کیسٹ ۲۵ روپیہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues