Al-Risala · March 1992 · page 39

دعا اور روزہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۳۹

دعا اور روزہ

روزہ کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں دعا کا ذکر ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزہ اور دعا میں خاص تعلق ہے۔ روزہ آدمی کو موثر انداز میں دعا کرنے والا بناتا ہے : واذا سألك عبادی عنی فانی قريب۔ اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو اجيب دعوة الداع إذا دعان میں نزدیک ہوں۔ پکارنے والے کی پکار کا جواب فليستجيبوا لى وليؤمنوا بي لعلهم دیتا ہوں۔ تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین يرشدون (البقرہ ۱۸۶)

تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

روزہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے صبر کا عمل ہے۔ صبر کیا ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی حکم الہی کی تعمیل میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرے۔ وہ برداشت کی قیمت پر اللہ تعالی کا فرماں بردار بنے۔ یہ صبر و برداشت ہی وہ چیز ہے جس سے آدمی اس قلبی حالت کو پہنچتا ہے جو اس کو خدا سے تقرب کا تجربہ کرائے۔ اس کے بعد ہی آدمی کی زبان سے وہ پر اثر کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے یہاں قبولیت کے مستحق ٹھہریں۔ صبر ہی وہ زمین ہے جس سے دعا کا مبارک پودا اگتا ہے۔ اس دنیا میں وہی شخص اللہ کو پاتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرے، اور اللہ تک اسی شخص کے الفاظ پہنچتے ہیں جس نے اپنی روح کے تاروں کو اللہ سے تار کیا ہو۔ اللہ سے قربت کثیف روحوں کو حاصل نہیں ہوتی۔ یہ خوش نصیبی صرف اس شخص کے لیے مقدر ہے جو اپنے اندر لطیف روح کا سرمایہ رکھتا ہو۔

دعا صرف ایک لفظی عمل نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک قلبی عمل ہے۔ قلب کے اندر جتنی زیادہ صلاحیت ابھرے گی اتنا ہی زیادہ اثر انگیز دعا آدمی کی زبان سے نکلے گی۔ اسی سے روزہ اور دعا کا ربط معلوم ہوتا ہے۔ روزہ آدمی کے قلب کی استعداد کو بڑھاتا ہے۔ اور جب قلب کی استعداد بڑھتی ہے تو اس سے جو دعا نکلتی ہے وہ بھی عام دعاؤں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ حقیقی روزہ وہ ہے جو حقیقی دعا میں ڈھل جائے۔ جو روزہ داری کے احساسات کو آدمی کی دعا میں شامل کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page