عید الفطر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۴۴
روزہ میں آدمی نے بھوک پیاس برداشت کی تھی ، اب باہر آ کر وہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوشگواریوں کو برداشت کرتا ہے۔ روزہ میں اس نے اپنے سونے اور جاگنے کے معمولات کو بدلا تھا، اب وہ وسیع تر انسانی مفاد کے لیے اپنی خواہشوں کو قربان کرتا ہے۔ روزہ میں اس نے عام دنوں سے زیادہ خرچ کیا تھا، اب باہر آ کر وہ اپنے واقعی حق سے زیادہ لوگوں کو دینے کی کوشش کرتا ہے۔ روزہ میں وہ بندوں سے کٹ کر خدا کی طرف متوجہ ہوا تھا، اب باہر آ کر وہ سطحی چیزوں میں الجھنے کے بجائے بلند مقصد کے لیے متحرک ہوتا ہے۔ روزہ میں وہ اپنی خواہش کو روکنے پر راضی ہوا تھا، اب باہر کی دنیا میں وہ یہ کرتا ہے کہ وہ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھنے والا بن جاتا ہے۔
روزہ سال کے ایک مہینہ کا معاملہ تھا تو عید سال کے گیارہ مہینہ کی علامت ہے۔ روزہ میں صبر، عبادت، تلاوت قرآن اور ذکر الہی کے مشاغل تھے ، اب عید سے جدوجہد حیات کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ روزہ اگر انفرادی سطح پر زندگی کا تجربہ تھا تو عید اجتماعی سطح پر زندگی میں شریک ہونا ہے۔ روزہ اگر اپنے آپ کو خدا کے نور سے منور کرنے کا وقفہ تھا تو عید گویا ساری دنیا میں اس روشنی کو پھیلانے کا اقدام ہے۔ روزہ اگر رات کی تنہائیوں کا عمل تھا تو عید، دن کے ہنگاموں کی طرف صحت مند پیش قدمی ہے۔
روزہ جس طرح محض بھوک پیاس نہیں، اسی طرح عید محض کھیل تماشے کا نام نہیں۔ دونوں کے ظاہر کے پیچھے گہری معنویت چھپی ہوئی ہے۔ روزہ وقتی طور پر عالم مادی سے کٹنا اور عید دوبارہ عالم مادی میں واپس آجانا ہے۔ روزہ اللہ سے قربت حاصل کرنے کی کوشش ہے، اور عید اس نئے زیادہ بہتر سال کا آغاز ہے جو روزہ کے بعد روزہ داروں کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ عید دراصل نئی زندگی شروع کرنے کا دن ہے۔ عید کا پیغام ہے کہ مسلمان نئی ایمانی قوت اور نئے امکانات کی روشنی میں از سر نو زندگی کی جدو جہد میں داخل ہوں۔ ان کا سینہ خدا کے نور سے روشن ہو۔ ان کی مسجدیں خدا کے ذکر سے آباد ہوں ۔ ان کے گھر تواضع کے گھر بن جائیں۔ سارے مسلمان متحد ہو کر وہ جدوجہد شروع کریں جس کے نتیجہ میں انہیں دنیا میں خدا کی نصرت ملے اور آخرت میں خدا کی جنت۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues