Al-Risala · March 1992 · page 45

آغاز حیات کا دن

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۴۵

آغاز حیات کا دن

اسلامی شریعت میں رمضان کا مہینہ روزہ کا مہینہ ہے۔ اور اس کے بعد یکم شوال کو عید کا دن قرار دیا گیا ہے۔ عید کے دن مسلمان اسلامی حدود کے اندر خوشی مناتے ہیں۔ تاہم یہ سادہ معنوں میں صرف خوشی کا دن نہیں ہے۔ یہ اہل اسلام کی زندگی کے لیے نئے آغاز کا دن ہے۔

حدیث میں عید کو لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات) کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کا امتحان لیا۔ جو لوگ اس نازک امتحان میں پورے اترے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے امتحان کے مہینہ کے فوراً بعد انعام کا دن رکھ دیا۔ روزہ گویا مومن کے لیے دنیا کی پُر مشقت زندگی کی تمثیل ہے ، اور عید مومن کے لیے آخرت کے راحت و مسرت کے دن کی تمثیل۔ اہل ایمان کے لیے خوشی اور کامیابی کا دن ابدی طور پر آخرت میں آئے گا۔ مگر ابتدائی طور پر وہ اسی دنیا سے شروع ہو جاتا ہے۔ اور عید کا دن اسی حقیقت کو بتانے کے لیے علامتی طور پر مقرر کیا گیا ہے۔

عید آغازِ حیات کا دن ہے۔ روزہ کا مہینہ احتساب کا مہینہ ہے۔ اور عید کا دن اس کے بعد نئے حوصلوں کے ساتھ مستقبل کی طرف اپنا سفر شروع کرنے کا دن۔

روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی دنیا سے اور دنیا کی چیزوں سے ایک محدود مدت کے لیے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ حتی کہ اپنی فطری ضروریات تک میں کمی کر دے۔ رمضان کا اعتکاف اسی کی انتہائی صورت ہے جب کہ بندہ ماسوائے قطع تعلق کر کے خدا کے گھر میں آکر پڑ جاتا ہے۔ اس کا مطلب لوگوں کو رہبان بنانا نہیں ہے۔ یہ ”حساب کیے جانے سے پہلے اپنا حساب کر لو“ کا ایک وقتی لمحہ ہے تاکہ مستقل زندگی کے لیے لوگوں کو تیار کیا جائے۔

عید کا دن اس وقتی لمحہ کا خاتمہ ہے جب کہ مسلمان نئے شعور اور نئی قوت عمل کے ساتھ از سر نو زندگی کے میدان میں داخل ہوتا ہے۔ تزکیہ نفس اور صبر اور تعلق باللہ کا جو سرمایہ اس نے روزہ کے ذریعہ پایا ہے، اس کو ساری زندگی میں پھیلانے کے لیے دوبارہ وہ دنیا کے ہنگاموں میں واپس آجاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page