چاند دیکھنے کی اہمیت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۵۰
کو دیکھا تو وہ بے اختیار اس اللہ کی طرف متوجہ ہو گیا جو چاند کو بنانے والا اور چلانے والا ہے۔ وہ کہہ اٹھا کہ خدایا، تو اس آنے والے مہینہ کو ہر قسم کی برکتوں کے حصول کا مہینہ بنا دے۔ چاند کو دیکھ کر یہ اعتراف کا کلمہ اس کی زبان سے نکل پڑا کہ جو میرا خالق ہے وہی چاند کا خالق بھی ہے دونوں ایک خدا کے بندے ہیں اور دونوں کو ایک ہی خدا کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنا فریضہ ادا کرنا ہے۔
چاند کی صورت میں اس کو آسمان میں خدا کی قدرت کا ایک کھلا ہوا نشان نظر آجاتا ہے۔ وہ اپنے ایمان کو تازہ کرتے ہوئے از سرِ نو یہ کہہ پڑتا ہے کہ میں اس خدا پر ایمان لاتا ہوں جس نے تجھ کو بنایا اور فضا میں تیری گردش کا نظام قائم کیا۔
اس فلکیاتی مشاہدہ میں اس کو خدا کی عظمت و کبریائی عیاناً دکھائی دینے لگتی ہے۔ وہ عبدیت کے احساسات سے سرشار ہو کر پکار اٹھتا ہے کہ اس نے چاند کے ذریعہ شروع ہونے والا مہینہ میرے لیے خیر کا مہینہ بن جائے ۔ وہ ساری انسانیت کے لیے ہدایت کے دروازے کھولنے والا ثابت ہو۔ آمد رمضان کے تعین کے لیے کیلنڈر کے بجائے رویتِ ہلال کو بنیاد بنانا گویا تاریخ میں نفسیات کو شامل کرنا ہے۔ یہ خبر میں مشاہدہ کا اضافہ کرنا ہے۔ یہ ایک حسابی واقعہ کو کیفیاتی واقعہ بنا دینا ہے۔ اس معاملہ کو مشاہداتی وسیلہ (visual aids) کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ٹی وی کی ایجاد نے ایک نیا طریقہ پیدا کیا ہے۔ ایک ٹیچر طالب علموں سے اپنی بات بتاتے ہوئے متحرک تصویروں کے ذریعہ اسکرین پر اس کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کو سمعی بصری تعلیم (audio-visual education) کہا جاتا ہے۔ صنعت کار اپنے سامان کا اشتہار ٹی وی پر دیتے ہیں جس کو سمعی بصری اشتہار (audio-visual advertisement) کہتے ہیں۔ اسی طرح رویتِ ہلال کے معاملہ میں آنکھ سے دیکھنے کا طریقہ استعمال کرنا گویا نئے چاند کی خبر کے ساتھ اس میں مشاہداتی تاثیر (visual effect) کا عنصر شامل کرنا ہے۔ یہ ایک خاموش کا غذی اطلاع کو با تصویر آسمانی اعلان بنا دینا ہے۔ کیلنڈر صرف رمضان کی آمد کی خبر دیتا ہے، جب کہ رویتِ ہلال کا طریقہ رمضان کی آمد کو مشاہداتی واقعہ کے روپ میں دکھاتا ہے۔ دونوں میں وہی فرق ہے جو اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کو اخبار میں پڑھنے اور اس کو ٹیلی وژن اسکرین پر دیکھنے میں ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues