چاند دیکھنے کی اہمیت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۴۹
دیں۔ اسی طرح ہم سائنسی دور کے مطابق ہو جائیں گے۔
مگر یہ رائے درست نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ کوئی مشینی عمل نہیں۔ وہ ایک نفسیاتی عمل ہے۔ شریعت میں ہر عبادت کے لیے اور اسی طرح روزہ کے لیے یہ مطلوب ہے کہ آدمی جب روزہ رکھے تو اس کے ساتھ وہ اپنی کیفیات کو بھی، اس کے ساتھ شامل کرے۔ اس کا روزہ ایک نفسیاتی واقعہ ہونا چاہیے نہ کہ محض ایک خشک مشینی واقعہ۔
جب شعبان کی ۲۹ تاریخ آتی ہے تو شام کو مسلمان باہر نکل کر افق کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ گویا روزہ داروں کے ساتھ آسمانی ربط قائم ہونا ہے۔ اوپر کی طرف وہ اپنی نگاہیں اٹھا کر گویا یہ جاننا چاہتے ہیں کیا ان کے بارہ میں خدا کا یہ حکم آگیا ہے کہ آج سے ایک مہینہ تک وہ روزہ داری کی زندگی گزاریں۔ یہ روزہ داروں کے لیے ایک لطیف نفسیاتی لمحہ ہوتا ہے جورویت ہلال کے لیے کیلنڈر کو بنیاد بنانے کی صورت میں کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔
رویت ہلال کا یہ پہلو ان روایتوں کے ذریعہ بخوبی طور پر سمجھ میں آجاتا ہے جو نیا چاند دیکھنے کے بارہ میں ہیں اور جن میں بتایا گیا ہے کہ نیا چاند دیکھنے کے بعد کس قسم کے الفاظ سے اس کا استقبال کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں کچھ دعائیں یہ ہیں :
اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْاَمْنِ وَالْاِيْمَانِ اے اللہ! تو اس کو ہمارے اوپر امن اور ایمان وَالسُّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ رَبِّيْ وَرَبُّكَ اللَّهُ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ نکال۔ (اے چاند) اللہ ہی میرا رب ہے اور اللہ ہی تیرا رب ہے۔
آمَنْتُ بِاللَّهِ الَّذِيْ خَلَقَكَ میں اللہ پر ایمان لایا جس نے تجھ کو پیدا کیا ہے۔ اَللّٰهُ اَکْبَرُ، هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ اللہ اکبر، بھلائی کا چاند اور ہدایت کا چاند۔ ان دعاؤں میں جو ربانی احساسات جھلک رہے ہیں وہ کیلنڈر کی ”خبر“ کو جان کر کبھی پیدا نہیں ہو سکتے۔ یہ قیمتی احساسات تو اسی انسان کے اندر پیدا ہوں گے جو چاند کے دن متحرک ہو اور پھر اپنی آنکھوں سے آسمان پر نئے چاند کو دیکھنے کا تجربہ کرے۔ اس عملی تجربہ کے بعد ہی کسی کے سینے سے مذکورہ دعائیں ابل سکتی ہیں نہ کہ محض کیلنڈر کی خبر سے۔
ان دعاؤں کے الفاظ پر غور کیجئے ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک صاحب ایمان نے جب نئے چاند
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues