ایمان کا ذائقہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۵۶
ایمان کا ذائقہ
امام مسلم بن الحجاج (۲۶۱ - ۲۰۶ھ) بلند پایہ محدث ہیں۔ الجامع الصحیح یا صحیح مسلم ان کی مشہور کتاب ہے۔ اس کے "کتاب الایمان" میں ایک باب ان الفاظ کے تحت قائم کیا گیا ہے: باب الدلیل علی ان من رضی باللہ رباً وبالاسلام دیناً وبمحمد رسولاً فھو مومن و ان ارتکب المعاصی الکبائر۔ اس باب کے ذیل میں انھوں نے یہ حدیث نقل کی ہے: عن العباس بن عبد المطلب انه سمع عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ذَاقَ ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللهِ ہوئے سنا۔ ایمان کا مزا چکھا اس شخص نے جو راضی رَبّاً وَبِالْاسْلَامِ دِينَا وَبِمُحَمَّدٍ ہو گیا اللہ کو رب بننے پر اور اسلام کے دین رَسُولاً۔
ہونے پر اور محمد کے رسول ہونے پر۔
انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ انا (ego) کا جذبہ ہے۔ آدمی ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے مگر وہ انا کی قربانی دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں ہیومنزم کی صورت میں اس نے آخری فتنہ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ہیومنزم کا مطلب ہے ـــــ تقدیر کی نشست کا خدا کے بجائے انسان کی طرف منتقل ہو جانا۔
Transfer of seat from God to man.
ایمان در اصل اسی انا کی قربانی کا نام ہے۔ مومن اپنی انا کو دفن کر کے خارجی حقیقت کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ اس کے لیے راضی ہوتا ہے کہ اس کے اپنے لیے عبد کی سیٹ ہو اور خدا کے لیے معبود کی سیٹ۔ وہ خدا کے پیغمبر کو پیغمبر کا مقام دے اور خود اپنے لیے غیر پیغمبر کے مقام کو پسند کرلے۔ وہ صرف خدا کے دین کو دین کا درجہ دے اور خود دین وضع کرنے کے حق سے مکمل طور پر دست بردار ہو جائے ۔
اس قسم کا ایک فیصلہ زبردست فکری انقلاب کے بعد ممکن ہوتا ہے۔ ایسا آدمی معرفت کا خصوصی ذائقہ چکھتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ اس خصوصی قربانی کے لیے بھی آمادہ نہ ہو سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues