Al-Risala · April 1992 · page 57

جنت کی یافتیں

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۵۷

جنت کی یافتیں

امریکہ کے سفر (دسمبر ۱۹۹۰) میں ایک صاحب سے آخرت اور جنت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ جنت کا تصور یہ دیا گیا ہے کہ وہاں ہر طرف آرام ہی آرام ہوگا۔ ایسی جنت آدمی کے لیے خوشیوں کی جگہ نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ زندگی نام ہے چیلنج میں جینے کا۔ چیلنج کا مقابلہ کر کے آدمی کی روح کو ایک اہتزاز حاصل ہوتا ہے۔ آدمی ایک ایسی دنیا میں خوش نہیں رہ سکتا جہاں چیلنج کو ختم کر دیا گیا ہو۔

میں نے کہا کہ جو چیز انسان کو اہتزاز بخشتی ہے وہ چیلنج نہیں بلکہ چیلنج کا نتیجہ ہے۔ یہ نتیجہ دریافت ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو چیلنج پیش آتے ہیں۔ آدمی اس چیلنج کا سامنا کر کے ایک نئی یافت (finding) تک پہنچتا ہے۔ یہ نئی یافت اس کو بے پناہ خوشی دیتی ہے۔ گویا اصل چیز یافت ہے۔ چیلنج تو اس کا محض ایک فارم ہے۔ اور فارم یقیناً ایک سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ جنت میں یافتوں کا سلسلہ موجودہ دنیا سے بے حساب گنا زیادہ بڑھ جائے گا۔ مگر یہ یافتیں چیلنج اور جوکھم کے ذریعہ نہیں ہوں گی بلکہ شغلِ فا کہہ (لینس (۵۵) کے ذریعہ ہوں گی۔ آدمی ہر دن نئی لذت، نئی معنویت اور نئے حقائق دریافت کرے گا۔ یہ سلسلہ ابد تک جاری رہے گا، اس لیے اس کی خوشیوں کا سلسلہ بھی ابد تک باقی رہے گا۔ وہ کبھی ختم نہ ہوگا۔

چیلنج میں آدمی کو لذت اس لیے ملتی ہے کہ چیلنج کی صورتِ حال آدمی کو مشغولیت دیتی ہے۔ اس میں آدمی اپنی ذات کو بھر پور طور پر استعمال ہوتا ہوا پاتا ہے۔ اپنی ذات کو مشغول کرنا اور پھر اپنی کوششوں سے ایک چیز کو پالینا، چیلنج کی یہی صفت آدمی کے لیے چیلنج کو لذیذ بناتی ہے۔ یہ چیز آخرت میں مزید اضافہ کے ساتھ جاری رہے گی۔

کسی چیز کا نیا ہونا اس کو آدمی کے لیے مرغوب بناتا ہے۔ یہ نیاپن دنیا میں محدود طور پر حاصل ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ دنیا میں ہر یافت کے ساتھ ایک رسک لگا ہوا ہے۔ یہ محدودیت اور یہ رسک موجودہ دنیا کی خوشیوں کو بے معنی بنا دیتا ہے۔ آخرت میں نیاپن مزید اضافہ کے ساتھ باقی رہے گا۔ مگر محدودیت اور رسک کا خاتمہ ہو جائے گا۔ آخرت کی دنیا میں لذت ہی لذت ہوگی اور خوشی ہی خوشی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues

Printed page