کون کنٹرول کرے
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۵۸
کون کنٹرول کرے
سر جولین ہکسلے کی ۲۰۰ صفحہ کی ایک کتاب ہے جس کا نام "مذہب بغیر الہام" ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مذہب (یعنی انسانی طریقہ) الہام خداوندی کی بنیاد پر قائم کرنے کا دور ختم ہو گیا۔ اب انسان خود اپنا مذہب بنا رہا ہے۔ اس مذہب کی بنیاد عقل (ریزن) پر ہے۔ اور اس کا نام ہیومنزم ہے۔
مصنف کے نقطہ نظر کا خلاصہ اس کے ان الفاظ میں ہے کہ موجودہ زمانہ میں انسان نے بڑی حد تک خارجی فطرت کی طاقتوں کو جاننے، ان کو کنٹرول کرنے اور ان کو استعمال کرنے کی بابت سیکھ لیا ہے۔ اب اس کو خود اپنی فطرت کی طاقتوں کو جاننے اور ان کو کنٹرول کرنے اور ان کو استعمال کرنے کی بابت سیکھنا ہے :
یہی موجودہ زمانہ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ملحدین کا عام نظریہ ہے۔ مگر یہ لفظی تک بندی کے سوا اور کچھ نہیں حقیقت یہ ہے کہ خارجی مادہ کو کنٹرول کرنا جتنا ممکن تھا، اتنا ہی یہ ناممکن ہے کہ انسان خود اپنی فطرت کو کنٹرول کرے۔ مادہ خود اپنے آپ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ اسی طرح انسان بھی خود اپنے آپ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ انسان کے لیے مادہ کو کنٹرول کرنا اس لیے ممکن ہوا کہ انسان کو اپنے دماغ کی بنا پر مادہ کے اوپر بالاتری حاصل تھی۔ اسی طرح انسان کو وہ ہستی کنٹرول کر سکتی ہے جس کو انسان کے اوپر بالاتری حاصل ہو۔ کوئی برابر اپنے برابر کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔
انسان کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک برتر خدا کا عقیدہ درکار ہے۔ برتر خدائی عقیدہ کے سوا کوئی چیز نہیں جو انسان کو قابو میں رکھ سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues