Al-Risala · April 1992 · page 62

حیکمانه طریقہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۶۲

حیکمانه طریقہ

زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو یہ فیصلہ لینا پڑتا ہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ ایسے مواقع پر فیصلہ لینے کی دو بنیادیں ہیں۔ ایک یہ کہ کیا درست ہے، دوسرے یہ کہ کیا ممکن ہے: 1. What is right. 2. What is possible حکیمانہ طریقہ یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی یہ دیکھے کہ کیا درست ہے۔ اور جو طریقہ درست ہو اس کو اختیار کر لے۔ مگر اجتماعی معاملہ کے لیے صحیح بات یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ممکن کیا ہے، اور جو چیز ممکن ہو اس کو اپنا لیا جائے۔

اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں سارا مسئلہ صرف اپنی ذات کا ہوتا ہے۔ آپ کو اپنی ذات پر پورا اختیار ہے۔ اپنی ذات کو آپ جس طرف چاہیں موڑیں اور اپنے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں۔ اس لیے آپ کو اپنی ذات کے معاملہ میں معیار پسند ہونا چاہیے اور حتی الامکان وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو مذہب اور اخلاق کی رو سے مطلوب ہے۔

مگر اجتماعی معاملہ میں آپ کی ذات کے ساتھ ایک اور فریق شامل ہو جاتا ہے۔ اس خارجی فریق پر آپ کو کوئی اختیار نہیں۔ آپ اس سے کہہ سکتے ہیں، مگر اس کو کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ایسی حالت میں عقل مندی کی بات یہ ہے کہ اجتماعی معاملہ میں ممکن“ کو دیکھا جائے۔ دو صورتوں میں سے جو صورت عملاً ممکن ہو اس پر اپنے آپ کو راضی کر لیا جائے۔

ذاتی معاملہ میں ”درست“ پر چلنے سے زندگی کا سفر رکتا نہیں، وہ برابر جاری رہتا ہے۔ مگر اجتماعی معاملہ میں ایسا کیا جائے تو فریق ثانی کی مخالفت فوراً آپ کے سفر کو روک دیتی ہے۔ اب سفر کو ملتوی کر کے ساری طاقت نزاع کے محاذ پر خرچ ہونے لگتی ہے۔ اس لیے مفید اور نتیجہ خیز طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کے مطالبہ کی رعایت کرتے ہوئے عمل کی جو ممکن صورت مل رہی ہے، اس کو اختیار کر لیا جائے ۔ حال کو مستقبل کے حوالے کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا جائے۔ یہی اس دنیا میں زندگی گزارنے کا حکیمانہ طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues

Printed page