Al-Risala · April 1992 · page 11

کامیابی کا پاسپورٹ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۱۱

کامیابی کا پاسپورٹ

امریکہ موجودہ زمانہ میں لوگوں کے لیے معاشی جنت بنا ہوا ہے۔ جو لوگ امریکی پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں وہ بھی پہلا موقع پاتے ہی امریکہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہاں اپنے اور اپنے بچوں کے لیے ایک کامیاب زندگی کی تعمیر کر سکیں۔

اس سلسلہ میں ایک رپورٹ نظر سے گزری جس کا عنوان تھا (Asian success story) اس کے مطابق، امریکہ میں جو ایشیائی امریکی (Asian Americans) آباد ہیں، ان کی اوسط آمدنی دوسرے امریکیوں کی اوسط آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ جیب غریب ملکوں سے نکل کر امریکہ پہنچتے ہیں اور وہاں دولت کی فراوانی دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ وہ رات دن محنت کر کے چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ دولت اپنے لیے سمیٹ لیں۔

یہ لوگ چین، فلپائن، کوریا، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، ویت نام وغیرہ سے نکل کر امریکہ پہنچتے ہیں۔ جائزہ سے معلوم ہوا ہے کہ سالانہ پچاس ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ کمانے والوں میں ان مہاجرین کا اوسط ۳۲ فی صد ہے، جب کہ دوسرے سفید فام امریکیوں کا اوسط صرف ۲۹ فی صد ۔ ان سنہری مواقع کی بنا پر ایشیائی باشندے کثرت سے امریکہ کے شہروں میں پہنچ رہے ہیں۔ رپورٹر نے اس سلسلہ کی مختلف تفصیلات دیتے ہوئے آخر میں لکھا تھا کہ ایشیائی مہاجرین کی کامیابی کی کہانی ”تیسری دنیا“ کے لوگوں کی امید میں اضافہ کر رہی ہے جن کا یقین ہے کہ امریکہ کا گرین کارڈ کامیابی کا پاسپورٹ ہے :

The Asian immigrant success story raises the hopes of thousands of Indians who believe that the passport to success is a US green card (p.8). امریکہ کے سفر میں بعض ”کامیاب“ ہندوستانیوں سے میں نے آخرت کے بارہ میں بات کی میں نے کہا کہ ”مذہب آخرت کی کامیابی کا پاسپورٹ ہے“۔ انھوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی کامیابی کو پانے کے لیے دنیا کی کامیابی کو کھونا پڑے گا۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ اصل چیز کامیابی سمجھنے کو کھونا ہے نہ کہ خود کامیابی کو کھونا۔ مذہب کی روح یہ ہے کہ دنیا کو ترقی کا مقام سمجھنے کے لیے بجائے امتحان کا مقام سمجھا جائے۔ 11 المسلم اپریل ۱۹۹۲

‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues

Printed page