پہلا جھٹکا
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۱۳
پہلا جھٹکا
امام ابو داؤد نے ادب کے تحت یہ حدیث (رقم ۴۷۸۴) نقل کی ہے کہ عبداللہ ابن بحیر الصنعانی کہتے ہیں کہ ہم عروہ بن محمد السعدی کے پاس گئے۔ اس وقت ایک شخص نے ان سے بات کی اور ان کر غضب ناک کر دیا۔ اس کے بعد وہ اٹھے اور وضو کیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے میرے دادا عطیہ سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ شیطان سے ہے۔ اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے۔ پس تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کر لے ۔ فَإِذَا غَضِبَ احدكم فليتوضا)
اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آدمی کو جب غصہ آئے تو وہ اگر کھڑا ہے تو وہ بیٹھ جائے ۔ اور اگر وہ بیٹھا ہے تو وہ لیٹ جائے ۔ وہ اپنی زبان سے کہے کہ اے اللہ ، میں شیطانِ رجیم سے تیری پناہ چاہتا ہوں (اللهم انی اعوذ بك من الشيطن الرجيم)
جب کوئی شخص آپ کو برا کہے یا آپ کے خلاف زیادتی کا کوئی کلمہ کہہ دے تو فوری طور پر آپ کے دل کو سخت جھٹکا لگتا ہے۔ آپ کے اندر غصہ کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ اس وقت اگر پہلے جھٹکے کو برداشت کر لیا جائے تو ایک لمحہ کے بعد اندر کی آگ بجھ جائے گی ؛ اور آپ ایک نارمل انسان کی مانند ہو جائیں گے ۔ اس کے برعکس اگر پہلے جھٹکے کو برداشت نہ کرتے ہوئے ردِ عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو ردِ عمل اور جوابی ردِ عمل کی صورت میں سلسلہ بڑھنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ غصہ ٹکراؤ تک پہو نچ جاتا ہے اور ٹکراؤ ہلاکت اور تباہی تک ۔
حدیث میں جو باتیں کہی گئی ہیں ، وہ گویا معاملہ کو پہلے جھٹکے پر ختم کرنے کی کچھ علامتی تدبیریں ہیں ۔ حالات کے لحاظ سے اس قسم کی کوئی بھی تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے ۔ مثلاً غصہ کے وقت اپنے مقام سے ہٹ جانا ۔ کمرہ سے نکل کو کھلی فضا میں ٹہلنے لگنا ، ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس لے کر پی لینا ، وغیرہ ۔ کسی بھی طرح اگر آپ نے پہلے جھٹکے کو سہہ لیا تو اس کے جلد ہی بعد آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے سینہ میں غصہ کا ہیجان ختم ہو چکا ہے ۔ آپ ایک معتدل انسان بن چکے ہیں جس طرح آپ غصہ سے پہلے ایک معتدل انسان تھے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues