ناکامی، کامیابی
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۱۴
ناکامی، کامیابی
امریکہ کی ترقی کا راز ایک سادہ سے لفظ میں چھپا ہوا ہے، وہ لفظ ریسرچ (تحقیق) ہے۔ وہاں ہر چیز پر ریسرچ ہوتی رہتی ہے۔ مثلاً بہت سے لوگوں نے اس پر ریسرچ کی ہے کہ کامیابی اور ناکامی کیا ہے۔ اور ناکامی کو کسی طرح دوبارہ کامیابی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں چند کتابوں کے نام یہ ہیں : Carole Hyatt, When Smart People Fail Rabbi Harold Kushner, When Bad Things Happen to Good People Charles Garfield, Peak Performers: The New Heroes of American Business Harvey Mackay, Swim With the Sharks Without Being Eaten Alive ان کتابوں میں اپنے موضوع پر قیمتی مواد جمع کیا گیا ہے۔ یہاں ہم صرف دو بات نقل کر رہے ہیں۔ ایک بات یہ کہ اس دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ کوئی آدمی ہمیشہ کے لیے ناکامی سے محفوظ (Failure-proof) زندگی حاصل کر سکے۔ یہاں بہر حال آدمی کو ناکامی سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہر ناکامی کو اپنے لیے سبق کے طور پر استعمال کرے۔ اکثر کامیاب انسانوں کی کامیابی کا راز یہ ملتا ہے کہ جب وہ ناکام ہوئے تو انھوں نے اپنی ناکامی کو آخری لفظ نہیں سمجھا :
(They learnt not to take failure as the last word)
دوسری بات یہ کہ ناکامی کی طرح کامیابی بھی ایک مسئلہ ہے۔ مسلسل کامیابی آدمی کے اندر گھمنڈ (arrogance) پیدا کر دیتی ہے جو خود ناکامی کا ایک مہلک سبب ہے۔ ایک کامیاب تاجر گلن ارلی (Glen Early) نے کہا کہ میں کامیابی پر مغرور بننے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں ہمیشہ اپنی تجارت کو بڑھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہوں :
I Can't afford to get arrogant about success. So I'm always trying to improve my business. کامیابی اور ناکامی کوئی پراسرار چیز نہیں۔ دونوں معلوم اسباب کے تحت پیش آنے والے واقعات ہیں۔ ان اسباب کو جانیے اور اس کے بعد آپ کو کس سے شکایت نہ ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues