Al-Risala · April 1992 · page 16

حمد الہی

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۱۶

حمد الہی

سب سے بڑی لذت حقیقتِ اعلیٰ کا ادراک ہے۔ آدمی کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا لمحہ وہ ہوتا ہے جب کہ وہ حقیقتِ اعلیٰ کلی معرفت حاصل کرے اور اس کو اپنے لفظوں میں بیان کر سکے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو شریعت میں "حمد" کہا گیا ہے۔

خدا اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس لیے خدا کی دریافت کسی انسان کے لیے لذت و انبساط کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے۔ آدمی جب اس حقیقتِ کبریٰ کو دریافت کرتا ہے تو اس پر اہتہاج و انبساط کی ناقابل بیان کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے اعتراف کے جو ربانی کلمات نکل پڑتے ہیں اسی کا نام حمد ہے۔ قرآن کی آیت (الحمد للہ رب العالمین) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

موجودہ دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ اس کو حقیقی معنوں میں الحمد للہ رب العالمین کہنے کی توفیق مل سکے۔ کوئی شخص اُس معرفتِ خداوندی کا تجربہ کرے جو آدمی کے اندرون کو ربانی نور سے روشن کر دیتا ہے اور اس کی زبان پر حمد وشکر کے نغمے جاری ہوجاتے ہیں۔

تاہم موجودہ دنیا میں ہر چیز ناقص و ناتمام حالت میں ہے۔ اس لیے یہاں جو چیز بھی انسان کو ملتی ہے وہ ناقص و ناتمام حالت میں ملتی ہے۔ اسی طرح معرفت الہی اور حمدِ خداوندی کی توفیق بھی موجودہ دنیا میں صرف ناقص صورت میں مل سکتی ہے۔ یہاں کسی انسان کے لیے معرفت کی اور حمدِ کامل کی نعمت ملنا ممکن نہیں۔ یہ سب سے بڑی خوشی ان نادر روحوں کے لیے مقدر ہے جن کو اگلے مرحلۂ حیات میں جنت کا داخلہ دیا جائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں اہل ایمان کہیں گے کہ الحمد للہ رب العالمین (الزمرہ)، اس سے مراد کلمہ حمد کا وہ اعلیٰ اور کامل اظہار ہے جس کا موقع صرف جنت کی کامل اور معیاری دنیا میں حاصل ہوگا۔ جنت کا انسان کامل ترین صورت میں حقیقت کا ادراک کرے گا، اس لیے وہ کامل ترین صورت میں کلمۂ حمد کا اظہار کر سکے گا۔ یہ بر تر لذت کی وہ قسم ہے جو صرف اہل جنت کے حصہ میں آئے گی۔ موجودہ دنیا میں جو لوگ آج کی سطح پر حمد خداوندی کا ثبوت دیں گے وہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو آخرت کی دنیا میں کل کی سطح پر حمد خدا وندی کی توفیق پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues

Printed page