خاموشی
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۱۷
خاموشی
عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من صمت نَجا۔ یعنی یعنی جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی (مشکاۃ المصابیح (۱۳۶۰/۳، اسی طرح ایک اور روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا : الصمت حکم وقلیل فاعلہ ۔ یعنی خاموشی حکمت ہے۔ مگر بہت کم ہیں جو اس پر عمل کرتے ہوں (المفردات في غريب القرآن ، ۱۲۷)
خاموشی بے عملی نہیں ، خاموشی خود ایک اعلیٰ ترین عمل ہے۔ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا صاحبِ دماغ ہونا ہے۔ اور خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ آدمی واقعۃ دماغ والا انسان ہے۔ وہ اپنے اندر ذہنی عمل کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چپ رہنا سوچنا ہے۔ جب آدمی چپ ہو تو وہ سادہ طور پر صرف چپ نہیں ہوتا، وہ اس وقت غوروفکر میں مشغول ہوتا ہے۔ اور غور وفکر بلاشبہ سب سے بڑا عمل ہے۔ بولنا اگر اعضاء و جوارح کی حرکت کا نام ہے تو چپ رہنا دماغ کی حرکت کا نام۔ بولنا اگر آدھا عمل ہے تو چپ رہنا پورا عمل۔ چپ رہنا سنجیدگی کی علامت ہے۔ جب آدمی چپ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے یہ سوچ رہا ہے کہ کیا بولے اور کیا نہ بولے ۔ وہ دوسروں کو مخاطب بنانے سے پہلے خود اپنے آپ کو مخاطب بنا رہا ہے ۔ وہ عاجلانہ اقدام کے بجائے سوچے سمجھے اقدام کا منصوبہ بنانے میں مشغول ہے۔
بولنا بے صبری ہے اور چپ رہنا صبر ہے ۔ بولنا بے احتیاطی ہے اور چپ رہنا احتیاط ہے۔ بولنا غیر ذمہ دارانہ انداز ہے اور چپ رہنا ذمہ دارانہ انداز۔ بولنا محدودیت ہے۔ جو آدمی بول دے اس کی گویا حد آگئی ، مگر چپ رہنا لا محدودیت ہے۔ جو آدمی چپ ہو وہ اتھاہ آدمی ہے۔ وہ ایسا آدمی ہے جس کی ابھی حد نہیں آئی۔ بولنے والا آدمی فوراً بول پڑتا ہے ، اور چپ رہنے والا آدمی اس وقت بولتا ہے جب کہ تمام لوگ اپنے الفاظ ختم کر چکے ہوں۔
قیمتی چیز ہمیشہ کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بولنے والوں سے خدا کی زمین بھری ہوئی ہے، اگر ایسے لوگ بہت کم ہیں جو چپ رہیں۔ جو بولنے سے زیادہ چپ رہنے کو محبوب رکھتے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues