علم کا حصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۱۸
علم کا حصول
صحیح مسلم میں کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ (باب اوقات الصلوات الخمس) کے تحت ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے:
عن عبدالله بن يحيى بن ابی کثیر عبداللہ بن یحیی بن ابی کثیر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ کہ میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ فقال سمعت ابي یقول:
لایستطاع العلم براحۃ الجسم علم جسمانی راحت کے ساتھ نصیب نہیں ہوتا۔ اس حدیث کا اگر چہ اوقاتِ نماز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بظاہر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ امام مسلم نے اس کو اوقات الصلوٰۃ کے باب کے تحت کیوں نقل کیا۔ تاہم اس سے قطع نظر، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کے حصول کے لیے جاں فشانی کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم میں گہری بصیرت اس کے بغیر حاصل نہیں ہوتی کہ آدمی راحت و آرام سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو علم کے حصول کے لیے وقف کر دے۔
علم کے لیے تحقیق اور مطالعہ انتہائی حد تک ضروری ہے۔ جب آدمی صحیح معنوں میں تحقیق اور مطالعہ میں لگتا ہے تو مصروفیتوں کی ایک پوری دنیا اس کے سامنے کھل جاتی ہے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ کھانا، نیند، آرام اور دوسرے جسمانی تقاضوں کو نظر انداز کیے بغیر وہ اپنے تحقیق اور مطالعہ کے کام کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ اس وقت جو آدمی علم کا سچا طالب ہو وہ دوسرے تمام تقاضوں کو ثانوی قرار دے کر ہمہ تن علم کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔
مگر یہ بھی صرف ایک ظاہری بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم میں مشغول ہونا خود ایک راحت ہے۔ آدمی جب علم کی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو یہ تجربہ اس کے لیے اتنا لذیذ ہوتا ہے کہ وہ خود ہر قسم کے آرام کا بدل بن جاتا ہے۔ اب جسمانی راحت کو چھوڑنا راحت کو چھوڑنا نہیں ہوتا بلکہ چھوٹی راحت سے نکل کر زیادہ بڑی راحت کو پالینے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو علم کے طالب کے لیے ہر قسم کی بے آرامی کو قابل قبول بنا دیتی ہے۔ وہ بڑی چیز کو پانے کی خوشی میں چھوٹی چیز کے کھونے کو برداشت کر لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues