بیرونیات، اندرونیات
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۲۱
بیرونیات، اندرونیات
آدمی کے وجود کی دو سطحیں ہیں۔ ایک باہر کی سطح ، اور دوسری اندر کی سطح ۔ اسی اعتبار سے انسانی سرگرمیوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو بیرونی ڈھانچہ کی سطح پر جاری ہوتی ہے ۔ دوسری وہ جو اندرونی کیفیات کی زمین سے ابھرتی ہے۔ اگر نئی اصطلاح بنانا ہو تو ان کو الگ الگ بتلانے کے لیے دو لفظ استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ بیرونیات اور اندرونیات ۔ بیرونیات سے مراد وہ سرگرمیاں ہیں جو باہر کی چیزوں پر مبنی ہوں۔ اندرونیات سے مراد وہ سرگرمیاں ہیں جو اندرونی حقیقت کی بنیاد پر وجود میں آئیں ۔
اس تقسیم کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سرگرمیوں کو دیکھئے تو وہ سب کی سب بیرونیات سے تعلق رکھنے والی نظر آتی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں بظاہر اگر چہ ایک دوسرے کے درمیان فرق ہے ۔ ان کے نمائندے جو الفاظ بولتے ہیں، وہ بھی ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں لیکن ظاہر سے گزر کر حقیقت کے اعتبار سے جانیے تو سب کی سب یکساں نظر آئیں گی۔ سب کسی نہ کسی اعتبار سے، بیرونی چیزوں پر مبنی دکھائی دیں گی ۔
جو تحریک بیرونیات کی سطح پر ابھرے ، وہ خواہ اسلام کا نام لیتی ہو ، مگر وہ ایک دنیا پرستانہ تحریک ہے ۔ خدا پرستی کے دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ اسلامی تحریک یا دینی دعوت وہ ہے جو تمام تر اندرونیات کی بنیاد پر ابھرے ۔ جو انسانی شخصیت میں پیدا ہونے والے اندرونی بھونچال کے نتیجہ میں ظہور میں آئی ہو۔
جس کے افراد معرفت ربانی کے اندرونی تجربہ کے تحت متحرک ہونے ہوں۔ جن کے یہاں نطق خاموشی کی صورت میں ڈھل گیا ہو۔ جن کی تنہائیاں فرشتوں کے آن دیکھے مجمع سے پُر رہتی ہوں۔ جن کے سینہ کا طوفان آنکھ کے آنسوؤں کی صورت میں رواں ہوتا ہو۔ جو چپ کی زبان میں خدا سے ہم کلام ہونے کا راز پاگئے ہوں ۔ جن کے لیے واقعات ظاہری بے حقیقت ہو جائیں اور حقائق اخروی جن کو پہاڑ سے بھی زیادہ نمایاں صورت میں دکھائی دینے لگیں ۔ دل کی دھڑکنیں ہی جن لوگوں کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا درجہ اختیار کر لیں ۔
البلاغ اپریل ۱۹۹۲
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues