دوبول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۲۲
دوبول
آپ امام البخاری کی ”صحیح کو پڑھنا شروع کریں تو جب آپ اس کے خاتمہ پر پہنچیں گے تو آخر میں آپ کو یہ حدیث لکھی ہوئی ملے گی :
عن ابی ھریرۃ قال قال النبي صلى الله عليه ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ شرطی وسلم . كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ وسلّم نے فرمایا۔ دو بول خدائے مہربان کو محبوب خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الميزان ہیں۔ وہ زبان پر ہلکے ہیں مگر قیامت کی میزان سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ پر بھاری ہیں۔ وہ بول ہیں : سبحان اللہ وبحمدہ السَّعظِيمِ . سبحان اللہ العظیم ۔
اس میں شک نہیں کہ یہ دونوں بول زمین و آسمان کی تمام چیزوں سے زیادہ وزنی ہیں۔ وہ قیامت میں اعمال کے ترازو کو جھکا دینے والے ہیں۔ مگر ان بولوں کی یہ اہمیت ان کے تلفظ میں نہیں ہے بلکہ ان کی حقیقت میں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ وہ جس معنویت کا اظہار ہیں وہ معنویت اپنی اہمیت میں تمام چیزوں سے بڑی ہوئی ہے۔
یہ دونوں بول دراصل معرفتِ خداوندی کے بول ہیں۔ ایک شخص کو ایمان کی معرفت حاصل ہوئی۔ اس نے اللہ کی پاک ہستی کا ادراک کیا۔ اس نے دیکھا کہ کائنات اپنے ان گنت کرشموں کے ساتھ اس کی حمد میں نغمہ سنج ہے۔ اس نے اپنے اندر اور اپنے باہر خدا کی عظمت و جلال کی نشانیاں دیکھیں۔ اس معرفت نے اس کے سینہ میں حمدِ الہی اور اعترافِ خداوندی کا طوفان برپا کر دیا۔ وہ بے اختیار پکار اٹھا کہ خدا یا تو پاک ہے۔ ساری حمد تیرے لیے ہے۔ تو سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ اس کی زبان پر بے اختیار یہ کلمات جاری ہو گیے کہ سُبْحانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ . اس طرح کا ایک بول محض ایک انسانی بول نہیں ۔ وہ خدا کی بے پایاں عظمتوں کا انسان کی زبان سے اظہار ہے۔ وہ تمام باوزن چیزوں سے زیادہ باوزن ہے۔ وہ بلاشبہ اسی قابل ہے کہ جس پلڑے میں رکھا جائے اس پلڑے کو جھکا دے۔
22 | البلاغ اپریل ۱۹۹۲ء ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues