ایک تبصرہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۲۵
ہو جو تمہاری چیز کی حیثیت سے باقی نہیں رہی، تو مسٹر جین اس کو جواب دیں گے کہ تم خود سب سے بڑے بے وقوت ہو۔ میری چیز پر کوئی شخص غاصبانہ قبضہ کرنے تو میں کیوں نہ غاصبانہ قبضہ کو ختم کرنے کے لیے اس سے لڑوں۔ وہ کیس گے کہ میں کسی غیر موجود مکان کے لیے نہیں لڑ رہا ہوں، بلکہ ایک موجود مکان پر غاصبانہ قبضہ کے خلاف لڑ رہا ہوں۔
اگر مسٹرگری، لال جین کی دلیل کو مان لیا جائے تو پچاس سال پہلے ہندوستان کی آزادی کے لیے جو جدوجہد کی گئی وہ پوری کی پوری بے وقوفی قرار پائے گی۔ مسٹر جین کے مذکورہ اصول کو ماننے کے بعد آخر اس کے حق میں کون سی دلیل باقی رہے گی۔ اس کے بعد ملک کے اوپر سے بدیشی قبضہ کو ہٹانے کے لیے قربانیاں دینا کس منطق سے معقول ثابت کیا جائے گا۔
دنیا کے تمام قانونی نظاموں میں استقرار حق (declaration of title) کے لیے قانون بنائے گئے ہیں۔ مگر مذکورہ نظریہ کو ماننے کے بعد اس قسم کے قوانین سرے سے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد کسی شخص کے لیے اپنی مغصوبہ ملکیت پر دوبارہ اپنا قبضہ بحال کرنے کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہتا۔ البتہ مسٹرگری لال جین یا کوئی بھی سمجھ دار آدمی ایسا نہیں کرے گا کہ اس کے گھر پر کوئی شخص غاصبانہ قبضہ کر لے تو وہ جوش میں آکر غاصب کو قتل کر ڈالے۔ ایسا کرنا غصب کے کہیں پر قتل کے کیس کا اضافہ کرنا ہے۔ اس سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ البتہ اصل مسئلہ میں مزید پیچیدہ تر مسائل کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
بابری مسجد کے کیس میں اصل غلطی خود کیس کو لے کر اٹھنا نہیں ہے۔ بلکہ کیس کو غلط طور پر لیڈری کا آشوب بنانا ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے نااہل لیڈروں نے اس کے حل کے نام پر غلط طریقہ اختیار کیے۔ یہی غلط طریق کار ہے جس نے بابری مسجد کے مسئلہ کو موجودہ سنگین صورت حال تک پہنچا دیا۔ اس غلط طریق کار کے نامطلوب نتائج میں سے ایک نا مطلوب نتیجہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے فرقہ پرست عناصر کو غیر معمولی طور پر ابھرنے کا موقع مل گیا۔
بابری مسجد کے مسئلہ کو ایک جائز اور حقیقی مسئلہ مانتے ہوئے میں کہوں گا کہ بابری مسجد نہیں بلکہ یہ بابری مسجد کے نام پر اٹھنے والے مسلمانوں کے لیڈر ہیں جنہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو زمین دی ہے۔ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اگر ہوشیار ہوتے تو صحیح طریق کار اختیار کرکے یقیناً وہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues