Al-Risala · April 1992 · page 26

ایک تبصرہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۲۶

بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس ملک میں بے زمین کرسکتے تھے۔

بابری مسجد کا اشو ایک حقیقی اشو ہے۔ مگر ۱۹۸۶ میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے نام سے جو تنظیم بنی اور اس نے اس اشو کو جس طرح عوامی اور احتجاجی انداز سے اٹھایا، وہ بلا شبہ احمقانہ بھی تھا اور مہلک بھی۔ نادان مسلم لیڈروں کا یہی طریقہ کار ہے جس نے بابری مسجد کے مسئلہ کو غیر ضروری طور پر اتنا پیچیدہ بنا دیا۔ بابری مسجد تحریک اپنی موجودہ صورت میں بلاشبہ ایک قسم کی اینٹی بابری مسجد تحریک تھی۔ اس "اینٹی تحریک" میں مسلمانوں کے تمام رہنما شریک ہیں، کوئی براہ راست اور کوئی بالواسطہ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں مسائل پیدا بھی ہوتے ہیں اور مسائل حل بھی کیے جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ مسئلہ کا پیدا ہونا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ کو حل کرنے کا کام نااہل اور نکمے افراد کے حوالے ہو جائے۔ بدقسمتی سے یہی دوسری صورت بابری مسجد کے مسئلہ کے ساتھ پیش آئی ہے۔ غلط لیڈروں کے اسی غلط طریقہ کار کا نتیجہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جو ۱۹۸۱ کے الیکشن میں ہندوستانی پارلیمنٹ میں صرف دو سیٹیں حاصل کر سکی تھی وہ ۱۹۸۹ کے الیکشن میں پارلیمنٹ کی ۸۶ سیٹوں پر قابض ہو گئی۔ اور ۱۹۹۱ کے الیکشن میں اس نے مزید اضافہ کے ساتھ پارلیمنٹ میں ۱۲۰ سیٹیں حاصل کرلی ہیں۔ نیز ملک کی سب سے بڑی ریاست یوپی میں وہ اس پوزیشن میں ہو گئی کہ وہاں اپنی وزارت بنا سکے۔ یہ وہی ریاست ہے جس کے ایک قصبہ میں بابری مسجد واقع ہے۔

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ داعیوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: يسروا ولا تعسروا ، بشروا ولا تنفروا (تم آسانی پیدا کرو، تم مشکل نہ پیدا کرو تم لوگوں کو بشارت دو، تم انہیں متنفر نہ کرو)

اس سے معلوم ہوا کہ ایک صحیح مقصد ہو تب بھی اس کے لیے کام کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو یسر اور بشارت کے انداز میں لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو عسر اور نفرت کے انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ بابری مسجد کی تحریک چلانے والے نااہل رہنماؤں نے یہ کیا کہ اس تحریک کو انھوں نے عسر اور نفرت کے انداز میں چلایا، وہ اس کو یسر اور بشارت والے انداز میں نہ چلا سکے، حالانکہ اس کا امکان پوری طرح موجود تھا۔ اس غلط اور غیر اسلامی طریقہ کار کا نتیجہ یہ ہے کہ اصل مسئلہ تو حل نہیں ہوا، البتہ کچھ مزید سنگین مسائل فت مسلم کے لیے پیدا ہو گئے۔ 25 الحفی 1992ء

‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues

Printed page