Al-Risala · April 1992 · page 30

ایک اور پہلو

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۳۰

تعبیر میں بھی اسی نسبت سے پیچھے ہو جائے گی۔

تا ہم اس کام کو صرف حکومت پر چھوڑ نا درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ہندوستانی کو اس میں اپنا حصہ ادا کرنا چاہئے ۔ ایک آدمی اگر صرف ایک آدمی کو پڑھا سکتا ہے تو وہ ایک آدمی کو پڑھائے۔ ایک آدمی ابتدائی سطح پر بچوں کی تعلیم کا انتظام کر سکتا ہے تو وہ ابتدائی سطح پر بچوں کی تعلیم کا انتظام کرے۔ کچھ لوگ اسکول اور کالج کھولنے کی طاقت رکھتے ہوں تو وہ اسکول اور کالج کھول کر نوجوانوں کی تعلیم کا بندوبست کر دیں۔ غرض ہر آدمی اپنے اپنے حالات کے اعتبار سے اس مہم میں شریک ہو جائے۔ جب یہ تعلیمی مہم کامیاب ہوگی اور قوم صد فی صد تعلیم یافتہ ہو جائے گی تو اس وقت نہ صرف ملک میں قومی یک جہتی آچکی ہوگی بلکہ مزید تمام اوصاف کو حاصل کر کے ہمارا سماج ایک ترقی یافتہ سماج بن جائے گا جس کا ہم پچھلے پچاس سال سے انتظار کر رہے ہیں۔

ایک اور پہلو

۳۰ برس کی کوششوں کے باوجود ہمارے ملک میں قومی ایکتا نہیں آئی ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ قومی ایکتا لانے کا جو طریقہ اپنایا گیا وہ درست نہ تھا۔

اس مدت میں ملک کے لیڈروں اور دانشوروں پر یہ خیال چھایا رہا ہے کہ " ایکتا" لانے کے لئے " "انیکتا کوختم کرنا پڑے گا۔ اسی ذہن کے تحت اس پر زور دیا جا رہا ہے کہ ملک میں سول میرج کا قانون نافذ کیا جائے۔ تمام لوگوں کو ایک کھر میں ڈھال دیا جائے ۔ جو لوگ زیادہ انتہا پسند ہیں وہ پرجوش طور پر کہتے ہیں کہ تمام لوگ رام کو اپنا پروج مانیں۔ تمام لوگ اپنے کو ہندو کہیں۔ وغیرہ۔ اس کو یہ حضرت تہنید (Indianisation) کہتے ہیں۔ مگر اس قسم کی یکسانیت عملاً نا ممکن ہے۔ اس لئے وہ اب تک وقوع میں بھی نہ آسکی۔

کناڈا قومی ایکتا کے لئے ایک مثالی ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ حالاں کہ کناڈا میں اسی طرح مختلف مذہب اور تہذیب کے لوگ رہتے ہیں جس طرح ہندوستان میں ۔ کناڈا میں یہ قومی ایکتا جس طرح حاصل کی گئی ہے، اس کو وہ لوگ کئی پھریت (multiculturalism) کہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مختلف فرقوں میں ایکتا لانے کے لئے یکساں کلچر (uniculturalism) کی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ وسیع تر قومی ڈھانچے کے اندر ہر ایک کی جدا گانہ اکائی کو مان لیا۔ اسی اصول پر چل کر کناڈا ترقی 20 الصاف اپریل 1997

‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues

Printed page