ایک اور پہلو
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۳۱
کر رہا ہے۔ ہندوستان کی ترقی بھی اسی طرح ہوسکتی ہے کہ وہ اس آزمودہ طریقہ کو اپنے یہاں اختیار کرلے۔
۱۳ نومبر ۱۹۹۱ء کو شولاپور (مہاراشٹر) میں قومی ایکتا کے موضوع پر ایک اجتماع تھا۔ اس میں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ شولاپور کی ایک معروف شخصیت اور سابق ایم ایل اے شری تلسی داس جادھو نے بھی تقریر کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اس نقطۂ نظر کی حمایت کی کہ اصل چیز موافقت اور رواداری کا مزاج ہے۔ اگر یہ مزاج ہو تو بڑے بڑے اختلاف کے باوجود باہمی میل ملاپ قائم ہو سکتا ہے۔
انھوں نے اپنے گھر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میرے باپ نان ویجیٹیرین تھے اور میری ماں ویجیٹیرین تھی۔ اس کے باوجود دونوں میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ میں نے اپنے گھر میں دیکھا ہے کہ میری ماں روزانہ صبح اٹھ کر نہاتیں اور میرے باپ کے لئے میٹ بنا کر اس کو کھانے کی میز پر رکھ دیتیں۔ اس کے بعد وہ دوبارہ نہاتیں اور اپنے لئے دال سبزی والا کھانا بناتیں۔ اسی طرح وہ آخر عمر تک کرتی رہیں۔ کھانے پینے کے معاملہ میں دونوں کے درمیان اتنا بڑا اختلاف تھا۔ مگر دونوں زندگی بھر عزت اور محبت کے ساتھ مل کر رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خاندانی ایکتا ہو یا قومی ایکتا، ہر ایک کا تعلق ذہنی رویہ (mental attitude) سے ہے نہ کہ ظاہری یکسانیت سے۔ انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک گھر کے اندر چند آدمی ہیں تو ان میں بھی طرح طرح کا اختلاف ہوگا۔ اس کا حل اختلاف کو مٹانا نہیں ہے۔ بلکہ اختلاف کو گوارا کرنا ہے۔ اختلاف کو مٹانے کی کوشش اختلاف کو بڑھاتی ہے۔ جبکہ اختلاف کو گوارا کرنے کی پالیسی اختلاف کو عملاً ختم کر دیتی ہے۔ علماء کا اجتماع طے کیا گیا ہے کہ ملک کے علماء کا ایک اجتماع کیا جائے جو اصلاح کے کاری اور اس سے متفق ہوں۔ بقیہ تفصیلات کا اعلان انشاء اللہ آئندہ کیا جائے گا۔ شرکت کے خواہش مند حضرات اپنے نام اور پتہ سے آگاہ فرمائیں۔
مدیر السلام مل 31 الہلال اپریل 1992
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues