غیر معمولی انسان
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۰
غیر معمولی انسان
وان وورسٹ (Bruce van Voorst) ایک امریکی جرنلسٹ ہے۔ اس نے جنگی رپورٹر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے۔ ڈامی نیکن (Dominican Republic) کی جنگ، ایرانی انقلابیوں کی شاہ کے خلاف جنگ، عراق اور ایران کی جنگ اور خلیجی جنگ (۱۹۹۱) میں اس نے میدان جنگ میں پہنچ کر براہ راست رپورٹنگ کی ہے۔
ٹائم میگزین (۴ فروری ۱۹۹۱) میں وان وورسٹ کے کچھ تجربات شائع کئے گئے ہیں۔ اس نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات جنگ کے وقت فوجیوں کی صفت (quality) اور سالمیت (integrity) کے بارہ میں تھی۔ اس نے کہا کہ جب جنگی مقابلہ جاری ہو تو فوجی حیرت انگیز طور پر اعلیٰ کار کردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ مشکلات سے بے پروا ہو کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ جنگ میں یہ فوجی عام فوجی نہیں ہوتے ، وہ سب کے سب غیر معمولی لوگ بن جاتے ہیں : In battle there are no ordinary soldiers; they are all extraordinary (p. 4). امریکی صحافی نے جو بات فوجیوں کے بارہ میں کہی، وہ ہر انسان اور ہر مقابلہ کے لیے یکساں طور پر صحیح ہے۔ انسان کے اندر پیدائشی طور پر بے شمار صلاحیتیں ہیں۔ عام حالات میں یہ صلاحیتیں سوئی ہوئی رہتی ہیں۔ مگر جب کوئی خطرہ پیش آتا ہے ، جب چیلنج کی صورت حال سامنے آتی ہے تو اچانک انسان کی تمام سوئی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ اس سے پہلے اگر اس کے "پاور ہاؤس" کا صرف ایک بلب جل رہا تھا تو اب اس کے تمام بلب بیک وقت جل اٹھتے ہیں۔
اب اس کی عقل زیادہ گہری سوچ کا ثبوت دیتی ہے۔ اس کا جسم مزید طاقتوں کے ساتھ متحرک ہو جاتا ہے۔ اس کی پوری ہستی ایک ہیروانہ کردار کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ چیلنج کمزور انسان کو طاقتور انسان بنا دیتا ہے۔ وہ نادان آدمی کو ہوشیار آدمی بنا دیتا ہے۔ چیلنج بظاہر ایک رکاوٹ ہے ، مگر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ اعلیٰ ترین ترقی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔ مقابلہ پیش آنے سے پہلے ہر انسان ایک معمولی انسان ہے ، مگر مقابلہ پیش آنے کے بعد ہر انسان غیر معمولی انسان بن جاتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues